بیجنگ (شِنہوا) چین نے اب تک مصنوعی ذہانت کے شعبے کو مستحکم اور منظم ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لئے تقریباً 200 کلیدی معیارات وضع کر لئے ہیں۔
وزارت صنعت و انفارمیشن ٹیکنالوجی (ایم آئی آئی ٹی) کے نائب وزیر شن گوبن نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ چین میں اب مصنوعی ذہانت کو تحقیق و ترقی، ڈیزائن، پیداوار، تیاری، معیار کی جانچ کے ساتھ ساتھ انتظام اور دیکھ بھال سمیت پورے سلسلے میں بڑے پیمانے پر ضم کر دیا گیا ہے۔
شن گوبن نے بتایا کہ متعدد شہروں میں مصنوعی ذہانت کے اخلاقی جائزے اور خدمات کے طریقوں کو عملی جامہ پہنانے کے لئے انتظامات کئے جا رہے ہیں۔
ایم آئی آئی ٹی کے انفارمیشن اینڈ کمیونیکیشنز ڈیویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر لیو یو لین نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ 15 ویں پانچ سالہ منصوبے کے دورانیے (2026-2030) میں بنیادی 6 جی ٹیکنالوجیز کو فروغ دینے کی کوششوں کو مزید تیز کیا جائے گا۔
لیو نے کہا کہ 6 جی ٹیکنالوجی کے مسلسل آزمائشی تجربات اور معیارات کی تیاری کا عمل جاری رکھا جائے گا تاکہ 6 جی صنعت کی پختگی اور اس کے ماحولیاتی نظام کی تشکیل کو فروغ دیا جا سکے اور 6 جی کی تجارتی بنیادوں پر تنصیب کے لئے تیاری کی جا سکے۔


