ہومتازہ ترینچین اور اقوام متحدہ کی میزبانی میں مصنوعی ذہانت اور انسانی ترقی...

چین اور اقوام متحدہ کی میزبانی میں مصنوعی ذہانت اور انسانی ترقی پر مشترکہ مکالمے کا انعقاد

بیجنگ (شِنہوا) مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور انسانی ترقی کے موضوع پر ایک مکالمہ 20 سے 21 اگست تک چین کے شمال مغربی صوبے شانشی کے دارالحکومت شی آن میں منعقد ہوا۔

چینی وزارت خارجہ کے ترجمان لین جیان نے روزانہ کی پریس بریفنگ میں بتایا کہ اس مکالمے کی مشترکہ میزبانی چینی وزارت خارجہ اور اقوام متحدہ نے کی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اقوام متحدہ کی نائب سیکرٹری جنرل امینہ جے محمد نے تقریب میں شرکت کی اور خطاب کیا۔

لین جیان نے کہا کہ کچھ عرصہ قبل صدر شی جن پھنگ نے سماجی ترقی کے وسیع تناظر میں مصنوعی ذہانت سے پیدا ہونے والے مواقع اور چیلنجز کے بارے میں 4 نکات پیش کئے تھے جن میں وسعت اور باہمی مفاد کے اصول پر قائم رہنے، خطرات سے متعلق شعور مضبوط بنانے، جامعیت کی حوصلہ افزائی کرنے اور یکجہتی کو فروغ دینے پر زور دیا گیا تھا۔ ان نکات کو عالمی برادری میں بھرپور پذیرائی ملی ہے۔

لین نے کہا کہ اس تقریب کا مقصد صدر شی کے اہم بیانات سے ہم آہنگ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مختلف ممالک کے نمائندوں نے تاریخ، فلسفے اور حقیقت کے زاویوں سے مصنوعی ذہانت کے انسانی ترقی پر مرتب ہونے والے گہرے اثرات کا جائزہ لیا۔

لین نے کہا کہ ’’چین میں مصنوعی ذہانت سے متعلق بین الاقوامی کانفرنسوں میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل اور نائب سیکرٹری جنرل کی شرکت دنیا کے لئے مصنوعی ذہانت کی اہمیت کو مکمل طور پر ظاہر کرتی ہے جو ایک جدید ترین ٹیکنالوجی ہے اور اس بات کی بھی عکاسی کرتی ہے کہ چین عالمی سطح پر اے آئی نظم و نسق میں اقوام متحدہ کے مرکزی کردار کی ہمیشہ حمایت کرتا ہے۔‘‘

لین نے کہا کہ ’’چین اقوام متحدہ اور دنیا کے تمام ممالک کے ساتھ مل کر مصنوعی ذہانت کی بھلائی اور سب کے لئے دستیاب اور جامع ترقی کو یقینی بنانے کے لئے مسلسل کوششیں کرے گا تاکہ عالمی برادری کی مشترکہ فلاح و بہبود میں مزید بہتر کردار ادا کیا جا سکے۔‘‘

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں