واشنگٹن (لارڈ میڈیا) امریکی خصوصی ایلچی برائے شام اور ترکیہ میں امریکی سفیر ٹام بارک نے کہا ہے کہ اسرائیل کا گولان کی پہاڑیوں پر کنٹرول اقوام متحدہ کی قراردادوں اور عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
ٹام بارک نے واشنگٹن میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق گولان کی پہاڑیاں شام کی ملکیت ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل کا گولان پر قبضہ عالمی برادری کے مؤقف کی مخالفت ہے جو اسے شام کا حصہ مانتی ہے۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے 1981 میں قرارداد نمبر 497 منظور کی تھی جس میں اسرائیل کے گولان پر قوانین نافذ کرنے کے اقدام کو باطل قرار دیا گیا تھا۔ قرارداد میں کہا گیا کہ اسرائیل کا یہ اقدام بین الاقوامی قانون کے تحت کوئی قانونی حیثیت نہیں رکھتا۔
اسرائیل نے 1967 کی جنگ میں گولان کی پہاڑیوں پر قبضہ کیا تھا اور 1981 میں اپنا قانون نافذ کر دیا تھا۔ تاہم اقوام متحدہ سمیت عالمی برادری نے اسرائیل کی ملکیت کو تسلیم نہیں کیا ہے۔
رواں سال اپریل میں شامی وزیر خارجہ اسعد حسن الشیبانی نے سلامتی کونسل کے اجلاس میں گولان کو مقبوضہ شامی علاقہ قرار دیتے ہوئے اسرائیل سے انخلا کا مطالبہ کیا تھا۔


