اسلام آباد (لارڈ میڈیا): بوتل بند پانی کے مختلف برانڈز کی تجزیاتی رپورٹ میں 230 میں سے 29 برانڈز کو غیر معیاری قرار دیا گیا ہے۔ حکومتِ پاکستان کی ہدایت پر پاکستان کونسل برائے تحقیقاتِ آبی وسائل نے اپریل تا جون 2026 کے دوران 20 شہروں سے پانی کے 230 برانڈز کے نمونے حاصل کیے۔
ان نمونوں کا پاکستان سٹینڈرڈ اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی (PSQCA) کے معیار کے مطابق لیبارٹری تجزیہ کیا گیا، جس میں پانی جراثیم آلودہ اور پینے کے لئے مضر صحت نکلا۔ 230 میں سے 29 برانڈز غیر معیاری پائے گئے۔
لیبارٹری تجزیہ کے مطابق 9 برانڈز میں سوڈیم کی مقدار مقررہ مقدار سے زیادہ تھی جبکہ 4 برانڈز میں ٹی ڈی ایس کی مقدار زیادہ پائی گئی۔ پاکستان کونسل برائے تحقیقاتِ آبی وسائل کا کہنا ہے کہ 22 برانڈز جراثیم سے آلودہ ہیں اور مضر صحت ہیں۔
کمپنیوں کے ترجمانوں نے دعوی کیا ہے کہ ان کا پانی معیاری ہے اور وہ حکومت سے رجوع کرکے ریکارڈ درست کروائیں گے۔


