کیف (لارڈ میڈیا): روس اور یوکرین کے درمیان جنگ میں شدت آ گئی ہے، جس کے نتیجے میں مختلف علاقوں میں حملوں کے دوران کم از کم 13 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ ان حملوں کی شدت کے پیش نظر فرانس نے یوکرین کو مزید فضائی دفاعی میزائل فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق حالیہ حملوں میں یوکرین میں 7 اور روس میں 4 افراد ہلاک ہوئے جبکہ کریمیا میں بھی 2 افراد کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں۔ ان تازہ ہلاکتوں کے بعد جنگ کے دوران شہری اموات کی تعداد حالیہ عرصے میں بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔
یوکرین کے شہر کریوی ریہ میں امدادی کارکنان ایک شاپنگ سینٹر کے ملبے میں تلاش کا کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ایک روز قبل روسی ڈرون حملے میں اس مرکز کو نقصان پہنچا تھا جس کے نتیجے میں 16 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے یوکرین کو نئے میزائل انٹرسیپٹرز فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یوکرین کو اپنی فضائی حدود کے دفاع اور روسی حملوں کو روکنے کے لیے ضروری وسائل فراہم کرنا انتہائی اہم ہے۔
روس نے حالیہ مہینوں میں خاص طور پر یوکرین کے دارالحکومت کیف پر بیلسٹک میزائل حملوں میں اضافہ کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق انتہائی تیز رفتار میزائل چند ہی منٹوں میں اپنے ہدف تک پہنچ سکتے ہیں، جس سے شہریوں کے لیے بروقت محفوظ پناہ گاہوں تک پہنچنا مشکل ہو جاتا ہے۔
روس اور یوکرین کے درمیان جنگ بندی کے لیے سفارتی کوششیں بھی تعطل کا شکار ہیں۔ امریکا کی جانب سے دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست مذاکرات کے کئی ادوار کرائے گئے، تاہم اب تک کوئی مستقل پیش رفت نہیں ہوسکی۔
فرانس اور برطانیہ کی قیادت میں اتحادی ممالک پیر کو اجلاس کریں گے، جس میں روس پر جنگ روکنے کے لیے دباؤ بڑھانے اور یوکرین کی دفاعی صلاحیت مزید مضبوط کرنے کے اقدامات پر غور کیا جائے گا۔
روسی حکام کے مطابق یوکرین کے ایک ڈرون حملے میں جنوبی روس کے علاقے ییسک میں ایک گھر کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں دو بچے ہلاک اور ان کے والدین زخمی ہوگئے۔ یوں جنگ کے دونوں جانب شہری آبادی بڑھتے ہوئے حملوں کی زد میں ہے۔


