تہران (لارڈ میڈیا) ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے کہا ہے کہ ایران نے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کا فیصلہ نہیں کیا اور امریکا سے مطالبہ کیا کہ وہ پہلے اپنے وعدے پورے کرے۔ انہوں نے کہا کہ امریکا نے ایران کے خلاف اقتصادی جنگ چھیڑ رکھی ہے اور ایران اس کا مقابلہ کر رہا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کو مدد فراہم کرنے والے ممالک کو سنگین معاشی نتائج کی دھمکی دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے ممالک کے خلاف معاشی جنگ اور تنہائی کی پالیسی اپنائی جائے گی۔
ایران کی مسلح افواج نے خلیج فارس کے ممالک کو خبردار کیا ہے کہ امریکا کو فوجی مدد فراہم کرنے والے ممالک کو امریکی فوجی کارروائیوں میں شرکت کا حامل سمجھا جائے گا۔
محسن رضائی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا کو جارحانہ کارروائیاں روکنی چاہئیں ورنہ ایران خلیج فارس سے تیل کی ترسیل روک سکتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران اور عمان نے آبنائے ہرمز کے ذریعے تجارتی راستے پر اتفاق کیا ہے لیکن مشترکہ بیان ابھی جاری نہیں ہوا۔
اقتصادی پابندیوں کو پروپیگنڈا قرار دیتے ہوئے محسن رضائی نے کہا کہ ایران تیل کی برآمدات جاری رکھے ہوئے ہے اور گزشتہ دو ماہ میں 7 کروڑ بیرل تیل برآمد کیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران جنگ نہیں چاہتا، مگر اپنے خلاف کارروائیوں کی مزاحمت جاری رکھے گا۔ اگر امریکا نے خطے میں اپنی افواج میں اضافہ کیا تو انہیں نشانہ بنایا جائے گا۔


