جکارتہ (شِنہوا) چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے کہا ہے کہ چین اور انڈونیشیا کے درمیان مضبوط دوستی اور تعاون نے نہ صرف دونوں ممالک کی اپنی اپنی ترقی کو فروغ دیا ہے بلکہ عالمی جنوب کے ممالک کے درمیان باہمی مفاد پر مبنی تعاون کی بھی ایک مثال قائم کی ہے۔
وانگ یی، جو کمیونسٹ پارٹی آف چائنہ کی مرکزی کمیٹی کے سیاسی بیورو کے رکن بھی ہیں، نے یہ بات انڈونیشیا کی قومی اقتصادی کونسل کے چیئرمین لوہوت بنسار پانجیتان سے ملاقات کے دوران کہی۔
وانگ یی نے کہا کہ چین خلوص دل سے انڈونیشیا کی ترقی کو تیز کرنے میں مدد کرتا ہے، چینی کاروباری اداروں کو انڈونیشیا میں سرمایہ کاری اور کاروبار جاری رکھنے کی ترغیب اور حمایت دیتا ہے، جس سے انڈونیشیا کو اپنے وسائل کے فوائد کو ترقی کی رفتار اور مقامی عوام کی بہتر زندگی میں تبدیل کرنے اور صنعت کاری کے عمل کو تیز کرنے میں مدد ملتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے چین امید رکھتا ہے اور اسے یقین ہے کہ انڈونیشیا کی حکومت چینی کاروباری اداروں کے لئے محفوظ، مستحکم اور سازگار کاروباری ماحول فراہم کرے گی۔
لوہوت نے کہا کہ انڈونیشیا اور چین کے تعلقات باہمی احترام، باہمی اعتماد اور گہری دوستی پر استوار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دوطرفہ تعاون، بالخصوص انڈونیشیا میں چینی کاروباری اداروں کی سرمایہ کاری نے انڈونیشیا کی اقتصادی ترقی اور عوام کے معیارِ زندگی کو بہتر بنانے میں اہم اور مثبت کردار ادا کیا ہے۔
لوہوت نے کہا کہ انڈونیشیا چین کو اپنا سب سے قابل اعتماد دوست اور شراکت دار سمجھتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ انڈونیشیا ہمیشہ چینی کاروباری اداروں کی ملک میں سرمایہ کاری اور کاروبار کا خیرمقدم کرتا ہے اور انہیں منصفانہ اور دوستانہ کاروباری ماحول فراہم کرے گا۔


