غزہ (لارڈ میڈیا): اقوام متحدہ کے ترجمان اسٹیفن ڈوجارک نے کہا ہے کہ غزہ میں اس وقت 94 فیصد آبادی رہائش کے لئے چھت سے محروم ہے۔
ترجمان کے مطابق غزہ میں ہر پانچ میں سے چار گھر ایسے حالات میں ہیں جہاں انہیں رہنے کیلئے چھت میسر نہیں ہے۔ کئی پناہ گاہوں میں ایندھن، توانائی اور ضروری گھریلو اشیاء کی کمی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ انسانی امدادوں میں رکاوٹیں لوگوں کی روزمرہ زندگی کی ضروریات جیسے سونے، کھانا پکانے، نہانے، کھانے، پانی کو ذخیرہ کرنے اور مناسب روشنی کو برقرار رکھنے کی صلاحیت کو متاثر کر رہی ہیں۔
ڈوجارک نے کہا کہ اقوام متحدہ کے دفتر برائے رابطہ برائے انسانی امور کو اسرائیلی فضائی حملوں، شیلنگ اور فائرنگ میں فلسطینی شہریوں کے ہلاک یا زخمی ہونے کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ 19 بچوں سمیت 50 افراد کی لاشیں 21 اگست کو ملبے سے نکالی گئیں، جنہیں دو سال سے زیادہ عرصہ قبل قتل کیا گیا تھا۔ ملبہ صاف کرنے اور لاشوں کو نکالنے کی کوششیں بھاری مشینری، اسپیئر پارٹس اور دیگر سامان کی پابندیوں کے باعث محدود ہیں۔


