کابل (لارڈ میڈیا) افغانستان کے دارالحکومت کابل کے دشتِ برچی علاقے میں ایک اسکول میں بم دھماکے کے نتیجے میں کم از کم 42 بچے زخمی ہو گئے ہیں۔ اقوام متحدہ کے مشن نے اس واقعے کی تصدیق کی ہے اور زخمی بچوں کی عمریں 9 سے 14 سال کے درمیان بتائی گئی ہیں۔
اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے خصوصی نمائندے رچرڈ بینٹ نے اس حملے کو ‘گھناؤنا’ قرار دیا ہے اور اس کی مذمت کی ہے۔ پیر کو پیش آنے والے اس واقعے میں درجنوں بچے زخمی ہوئے۔
افغانستان کے ڈائریکٹوریٹ آف مائن ایکشن کوآرڈینیشن نے بتایا کہ اسکول میں پھٹنے والا دستی بم تھا۔ اس علاقے میں پہلے بھی دہشت گرد حملے ہو چکے ہیں، جن میں 2021 میں کار بم دھماکے سے 90 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
نجی پرائمری اسکول نے فیس بک پر زخمیوں کے لیے دعا کی اپیل کی ہے۔ ایک مقامی خاتون نے بتایا کہ دھماکا اس وقت ہوا جب بچوں کو چھٹی دی جا رہی تھی، اور اس نے سکیورٹی خدشات کے باعث نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ بہت زیادہ لوگ زخمی ہوئے۔


