بیجنگ (شِنہوا) دریائی بندوں کا معائنہ کرنے والے ڈرونز سے لے کر پوشیدہ کٹاؤ کا سراغ لگانے والے فائبر آپٹک سینسرز تک چین قدرتی آفات سے نمٹنے کی صلاحیت کو مضبوط بنانے کے لئے جدید ٹیکنالوجی سے لیس آلات کے استعمال میں توسیع کر رہا ہے۔ اس سے خطرات کی بروقت نشاندہی، نگرانی اور زمینی سطح پر ہنگامی امدادی کارروائیوں کی صلاحیت میں اضافہ ہو رہا ہے۔
رواں سال کے سیلابی موسم کے دوران دریائی بندوں میں اندرونی کٹاؤ اور پانی کے رسنے کے خطرات کا جائزہ لینے کے لئے ڈرونز، فائبر آپٹک سینسرز اور برقی مقناطیسی آلات استعمال کئے گئے جو موثر طور پر ان سہولتوں کا "سی ٹی اسکین” فراہم کرتے ہیں۔
تھرمل امیجنگ اور دیگر سینسرز سے لیس ڈرونز پہلے بندوں کے وسیع حصوں کا جائزہ لیتے ہیں اور اندرونی کٹاؤ یا پانی کے رسنے کے مشتبہ مقامات کی نشاندہی کرتے ہیں۔ اس کے بعد فائبر آپٹک سینسرز پانی میں ہونے والی معمولی ارتعاش کو محسوس کرتے ہوئے طویل فاصلے تک پانی کے داخل ہونے کے مقامات کی درست نشاندہی میں مدد دیتے ہیں۔
بعد ازاں برقی مقناطیسی آلات بند کے اندر پانی کے رساؤ کے راستوں کا سراغ لگاتے ہیں اور زیر زمین پانی کے بہاؤ کی سہ جہتی تصویر تیار کرتے ہیں۔ معائنے سے حاصل ہونے والا تمام ڈیٹا ایک کلاؤڈ پر مبنی پلیٹ فارم پر منتقل کیا جاتا ہے جہاں مصنوعی ذہانت کے الگورتھمز ممکنہ خطرات کی مزید جانچ اور تصدیق کرتے ہیں۔
یہ نظام نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف نیچرل ہیزرڈز کی ایک ٹیم نے تیار کیا ہے۔ معاون محقق لیو یونگ نے بتایا کہ اس نظام کی مدد سے رسنے والے ان مقامات کی نشاندہی ممکن ہوئی ہے جو گشت کے دوران نظر انداز ہو سکتے تھے۔
ادارے کے مطابق مقامی طور پر تیار کردہ اس نظام نے 95 فیصد سے زائد نگرانی کی درستگی حاصل کی ہے۔ اب تک اسے 50 سے زائد معائنے کی بڑی کارروائیوں میں استعمال کیا جا چکا ہے، جن کے دوران تقریباً ایک ہزار 200 کلومیٹر طویل بندوں کا جائزہ لیا گیا اور اندرونی کٹاؤ، پانی کے رسنے اور دیگر خطرات کے 175 واقعات کی نشاندہی کی گئی۔
ایک اور اہم ہنگامی امدادی ذریعہ موٹر سے چلنے والا پونٹون پل ہے جو ایک ماڈیولر ریسکیو نظام ہے اور سیلابی پانی یا دریاؤں کے پار لوگوں اور بھاری آلات کی منتقلی کے لئے تیار کیا گیا ہے۔
اسے نصب کرنے کے لئے نہ کرین کی ضرورت ہوتی ہے اور نہ ہی پانی میں عملے کو اترنا پڑتا ہے۔ آف روڈ ٹرک پر نصب فولڈ ہونے والے پونٹون پانی میں اتارے جاتے ہیں اور وہ خودکار طور پر کھل کر تقریباً 10 منٹ میں 10 میٹر طویل اور 8.3 میٹر چوڑا تیرتا ہوا پلیٹ فارم بن جاتے ہیں۔ مشن کی نوعیت کے مطابق اسے بڑی فیری، تیرتی ہوئی گودی یا عارضی پل کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔
جولائی میں شدید بارشوں کے باعث چین کے جنوبی گوانگ شی ژوانگ خودمختار علاقے کے شہر گوئی گانگ میں واقع ایک تعلیمی پارک کے بعض حصوں میں 7 میٹر تک سیلابی پانی جمع ہو گیا تھا۔ امدادی ٹیموں نے پونٹون نظام کے ذریعے پھنسے ہوئے 6 ہزار سے زائد طلبہ اور اساتذہ کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا۔
چین کے ایک سرکاری ادارے کی جانب سے آزادانہ طور پر تیار کئے گئے اس پل میں مقامی طور پر تیار کردہ پرزوں اور اجزاء کا تناسب 95 فیصد سے زیادہ ہے۔
ان ٹیکنالوجیز کا بڑھتا ہوا استعمال چین کی جانب سے اپنے ہنگامی انتظامی نظام کو جدید بنانے کی وسیع کوششوں کی عکاسی کرتا ہے۔ اس کے تحت تجربے کی بنیاد پر ردعمل کی جگہ ڈیٹا پر مبنی فیصلہ سازی کو فروغ دیا جا رہا ہے جبکہ آفات کے بعد امدادی کارروائیوں کے بجائے خطرات کی پیشگی روک تھام پر توجہ مرکوز کی جا رہی ہے۔ اس عمل سے ایک بڑی صنعتی منڈی بھی فروغ پا رہی ہے۔


