اسلام آباد (لارڈ میڈیا): سینیٹ کی فنکشنل کمیٹی نے وفاقی حکومت کو 2 ہفتوں کے اندر 2 درجن وزارتیں و محکمے بند کرنے کی ہدایت دی ہے اور ایک درجن ادارے مشترکہ مفادات کونسل کو منتقل کرنے کی تجویز دی ہے۔ کمیٹی نے پاور ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کو آئین کے تحت صوبائی ملکیت قرار دیتے ہوئے وفاق کو نجکاری سے روک دیا ہے۔
کمیٹی نے مشترکہ مفادات کونسل کی ازسرنو تشکیل کی ہدایت کی ہے اور کہا ہے کہ میڈیا براڈ کاسٹنگ حقوق صوبوں کے ساتھ شیئر کیے جائیں۔ پرنٹ میڈیا کو ریگولیٹ کرنے کا سلسلہ بند کرنے کی بھی سفارش کی گئی ہے۔
سینیٹر ضمیر حسین گھمرو نے اجلاس میں کہا کہ وفاقی حکومت کمیٹی کی ہدایات پر عمل کرنے کی پابند ہے اور کیبنٹ ڈویژن 15 روز بعد عملدرآمد رپورٹ فراہم کرے۔ غیر آئینی وزارتیں ملازمین کو متاثر کیے بغیر بند یا صوبوں کو منتقل کی جائیں۔
کمیٹی نے کہا کہ وفاقی حکومت کے اخراجات 190 کھرب روپے تک پہنچ چکے ہیں اور ان وزارتوں کو بند کرکے اخراجات 130 کھرب روپے تک لانے کی ضرورت ہے۔ کمیٹی نے کہا کہ یہ وزارتیں محض ایک رکن پارلیمنٹ اور وفاقی سیکرٹری کو کھپانے کے لیے قائم رکھی گئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ مشترکہ مفادات کونسل کے اختیارات کو مضبوط بنانے کی ضرورت ہے اور بجلی، پٹرولیم، گیس اور ادویات کی قیمتوں کا کنٹرول کونسل کو دینا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی دائرہ کار کے شعبوں پر وفاقی کنٹرول مسترد کیا جانا چاہیے۔
کمیٹی نے خبردار کیا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے مزاحمت متوقع ہے اور کمیٹی کی ہدایات کے عملدرآمد سے قبل مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔


