واشنگٹن (شِنہوا) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مقبولیت کی شرح 33 فیصد تک گر گئی ہے جو ان کی موجودہ صدارتی مدت کی کم ترین سطح ہے۔ یہ بات پیر کو مکمل ہونے والے رائٹرز اور اپسوس کے سروے میں سامنے آئی، جس میں ایران کے خلاف امریکی جنگ پر عوامی تشویش کا بھی اظہار کیا گیا۔
چار روزہ سروے میں صرف 33 فیصد افراد نے کہا کہ وہ وائٹ ہاؤس میں ٹرمپ کی کارکردگی سے مطمئن ہیں جبکہ 64 فیصد نے ان کی کارکردگی کو ناپسند کیا۔
سروے کے مطابق ٹرمپ کی مقبولیت کی شرح اس ماہ کے شروع میں ہونے والے سروے کے 35 فیصد کے مقابلے میں مزید کم ہوئی ہے اور موجودہ مدت کے دوران اب تک کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔ سروے میں کہا گیا کہ "یہ شرح دسمبر 2017 میں ان کی گزشتہ صدارتی مدت کے دوران ریکارڈ کی گئی کم ترین سطح کے برابر ہے۔”
تازہ سروے ایسے وقت میں جاری کیا گیا جب امریکہ اور ایران کے درمیان مفاہمت کی ایک یادداشت کے تحت 60 روزہ مذاکراتی مدت پیر کو ختم ہونے والی تھی تاہم دونوں ممالک کے درمیان وسیع تر امن معاہدے کی جانب کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی۔
ٹرمپ نے حالیہ بیانات میں پٹرول کی بلند قیمتوں پر عوامی تشویش کم کرنے کی کوشش کی ہے۔ جمعہ کو نیویارک کے شہر گارڈن سٹی میں ایک سیاسی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ "پٹرول کے لئے معمولی سی زیادہ قیمت ادا کرنا” اس بات کو یقینی بنانے کی قیمت کے مقابلے میں قابل قبول ہے کہ ایک "انتہائی خطرناک ملک” جوہری ہتھیار حاصل نہ کر سکے۔
دریں اثنا اتوار کو جاری ہونے والے فنانشل ٹائمز کے ایک سروے کے مطابق 53 فیصد امریکی ووٹرز نے کہا ہے کہ ٹرمپ کے دور میں ان کی مالی حالت مزید خراب ہوئی ہے۔ اس کی وجہ معیشت اور مہنگائی سے نمٹنے کے لئے ٹرمپ کی پالیسیوں پر بڑھتی عوامی بے چینی ہے۔
بروکنگز انسٹی ٹیوشن کے سینئر فیلو ڈیرل ویسٹ نے شِنہوا کو بتایا کہ "مہنگائی اجرت میں اضافے سے زیادہ تیزی سے بڑھ رہی ہے اور لوگوں کو اپنے اخراجات پورے کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ بہت سے لوگوں کو محسوس ہوتا ہے کہ وہ پیچھے رہ گئے ہیں اور خوراک، پٹرول اور صحت کی دیکھ بھال کے بڑھتے اخراجات پورے نہیں کر پا رہے۔”


