جوہانسبرگ (شِنہوا) جنوبی افریقی براڈکاسٹنگ کارپوریشن کے چینل افریقہ انٹرنیشنل کے صحافی مائیکل ایمبیوے نے کہا ہے کہ دنیا کے کئی حصوں میں چین کے لئے بڑھتی ہوئی مثبت رائے کو جزوی طور پر اس کے ترقیاتی تجربے کے انسانی پہلو کے ذریعے سمجھا جا سکتا ہے۔
ایمبیوے، جنہوں نے حال ہی میں چین میں افریقی مین سٹریم میڈیا کے مطالعاتی دورے میں شرکت کی، نے شِنہوا کو ایک حالیہ تحریری انٹرویو میں بتایا کہ دورے میں ان کے براہ راست تجربے نے انہیں چین کی ترقی، بالخصوص دیہی آبادیوں میں غربت کم کرنے اور معیارِ زندگی بہتر بنانے کی چین کی کوششوں کے بارے میں ایک مختلف نقطہ نظر فراہم کیا۔
ایمبیوے نے کہا کہ چین کا غربت کے خاتمے کا تجربہ خاص طور پر قابل تقلید ہے کیونکہ اس میں مختلف لوگوں اور برادریوں کے مخصوص حالات کو سمجھ کر اسی کے مطابق اقدامات کئے گئے۔
صحافی نے کہا کہ میرے لئے سب سے نمایاں بات یہ تھی کہ غربت کا خاتمہ صرف مالی امداد فراہم کرنے تک محدود نہیں تھا۔ اس میں لوگوں کو معاشی مواقع سے جوڑنا، بنیادی شہری سہولتوں کو بہتر بنانا، تعلیم اور ہنر کو فروغ دینا، زراعت کی معاونت کرنا اور برادریوں کو معیشت میں زیادہ موثر انداز میں حصہ لینے کے مواقع فراہم کرنا شامل تھا۔
انہوں نے کہا کہ مطالعاتی دورے میں ان پر سب سے گہرا اثر اس بات کا پڑا کہ چین کی ترقی بڑے شہری مراکز تک محدود نہیں بلکہ دیہی علاقوں تک بھی پھیل چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے سے الگ تھلگ برادری کو منڈی سے ملانے والی سڑک، کسی کاروبار کو چلانے کے لئے قابل اعتماد بجلی، نوجوانوں کو معلومات اور مواقع تک رسائی دینے والا انٹرنیٹ اور کسی شخص کو روزگار حاصل کرنے کے قابل بنانے والی پیشہ ورانہ تربیت اور ترقی کے بارے میں لوگوں کے تصور پر گہرا اثر ڈال سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جب عام لوگ اپنی زندگیوں میں ترقی کے اثرات کو دیکھ اور محسوس کر سکیں تو ترقی خیرسگالی پیدا کرتی ہے۔
چین کے دورے میں زرعی جدت، بہتر بنیادی شہری سہولتوں اور مقامی معاشی صلاحیتوں کے مطابق صنعتوں کے فروغ کی کوششوں کا مشاہدہ کرنے کے بعد ایمبیوے نے کہا کہ اس تجربے سے انہیں سمجھنے میں مدد ملی کہ چین کی ترقی کی داستان بہت سے ترقی پذیر ممالک، خصوصاً افریقہ میں کیوں اثرانداز ہو رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جب افریقی عوام یہ مثالیں دیکھتے ہیں کہ چین نے ان میں سے بعض مسائل سے کس طرح نمٹا ہے تو وہ قدرتی طور پر یہ سمجھنے میں دلچسپی لیتے ہیں کہ ان کے اپنے حالات کے لئے کون سے اسباق قابل عمل ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ افریقی ممالک کی تاریخ، سیاسی نظام، معیشت، ثقافت اور سماجی حالات ایک دوسرے سے مختلف ہیں تاہم وہ طویل مدتی منصوبہ بندی، بنیادی شہری سہولتوں اور انسانی سرمائے میں سرمایہ کاری، زرعی پیداوار میں ویلیو ایڈیشن، تکنیکی جدت، پیشہ ورانہ تربیت اور دیہی برادریوں کو وسیع تر منڈیوں سے جوڑنے سمیت وسیع تر اصولوں سے استفادہ کر سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ترقی بالآخر لوگوں کے بارے میں ہے۔ کوئی پالیسی کاغذ پر کتنی ہی متاثر کن کیوں نہ لگے، اس کی حقیقی اہمیت اس بات سے طے ہوتی ہے کہ آیا وہ لوگوں کی زندگیوں میں بہتری لاتی ہے یا نہیں۔


