ابوجا (شِنہوا) ایک بین الاقوامی سیمینار کے شرکاء نے کہا ہے کہ افریقی ممالک سے آنے والی برآمدات پر چین کے زیرو ٹیرف اقدام سے دوطرفہ تجارت فروغ پا رہی ہے۔ اس سے نائجیریا کے لیے صنعت کاری کو تیز کرنے اور تیل کے علاوہ دیگر اشیاء کی برآمدات کو وسعت دینے کے نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔
نائجیریا کے دارالحکومت ابوجا میں ’افریقی ممالک کے لیے 100 فیصد ٹیرف لائنز پر چین کا زیرو ٹیرف اقدام اور افریقہ میں معاشی ڈھانچے کی تبدیلی کے لیے اس کے اثرات‘ کے موضوع پر منعقدہ سیمینار میں سینئر سرکاری حکام، معاشی و تجارتی ماہرین، سفارت کاروں اور مقامی کاروباری نمائندوں نے اتفاق کیا کہ اس پالیسی نے افریقہ کے سب سے زیادہ آبادی والے ملک میں معاشی ترقی کو آگے بڑھانے کے لیے نئے مواقع فراہم کیے ہیں۔
یکم مئی سے نافذ یہ پالیسی چین کے ساتھ سفارتی تعلقات رکھنے والے 53 افریقی ممالک کے لیے زیرو ٹیرف اقدامات کے مکمل نفاذ کی عکاسی کرتی ہے جس سے انہیں دنیا کی بڑی صارف منڈیوں میں سے ایک تک ڈیوٹی فری رسائی حاصل ہو گئی ہے۔
نائجیریا میں چین کے سفیر یو دونہائی نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ باہمی خوشحالی کی جانب ایک عملی قدم ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ اس پالیسی کے نفاذ کے بعد سے نائجیریا سے چین کو برآمدات میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے اور مئی و جون میں ماہانہ شرحِ نمو 40 فیصد سے تجاوز کر گئی ہے۔
یو دونہائی نے کہا کہ یہ اقدام نائجیریا کی صنعتی ترقی اور مقامی روزگار کے فروغ کا باعث بن رہا ہے جس سے مقامی کاروباری ادارے زیرو ٹیرف کی سہولت سے فائدہ اٹھا کر ملکی سطح پر پراسیسنگ میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں اور قیمتی مصنوعات کی تیاری میں آگے بڑھ رہے ہیں۔
نائجیریا کے وزیر مملکت برائے زراعت و غذائی تحفظ علیو سابی عبداللہی نے ملکی معاشی ڈھانچے میں فوری تبدیلیوں کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مقامی پیداوار کنندگان خام مال برآمد کرنے کے بجائے زیادہ قیمت والی اور پروسیس شدہ زرعی مصنوعات پر توجہ دیں۔


