بیجنگ (شِنہوا) چین ملک بھر میں سرحد پار نقد رقوم کے مشترکہ انتظام کے ایک آزمائشی پروگرام کا دائرہ کار وسیع کرے گا، جس کے تحت مزید کثیر القومی کمپنیوں کو سرحد پار چینی کرنسی رین من بی اور غیر ملکی کرنسی کے فنڈز کو مرکزی طور پر یکجا کرنے کی اجازت ملے گی۔
چین کے مرکزی بینک، پیپلز بینک آف چائنہ اور ریاستی انتظامیہ برائے زرمبادلہ کی جانب سے مشترکہ طور پر جاری کردہ نوٹس کے مطابق نئی پالیسی 14 ستمبر سے نافذ العمل ہوگی۔
اس پروگرام کے تحت کثیر القومی کمپنیاں اپنی رکن کمپنیوں کے غیر ملکی قرضوں اور بیرون ملک قرض دینے کی حد کو یکجا کر سکتی ہیں، مرکزی طور پر جمع کئے جانے والے فنڈز کا تناسب خود طے کر سکتی ہیں اور رین من بی اور غیر ملکی کرنسی کی رقوم کو ایک ہی اکاؤنٹ سے منظم کر سکتی ہیں۔
غیر ملکی زرمبادلہ کے ضابطہ کار ادارے کے ایک عہدیدار کے مطابق اس سے گروپ کی سطح پر فنڈز تقسیم کرنا آسان ہوگا جبکہ رکن کمپنیوں کو ان رقوم کے استعمال میں زیادہ سہولت ملے گی۔
سرحد پار آر ایم بی اور غیر ملکی کرنسی فنڈز کے مرکزی آپریشن اور انتظام کے نام سے یہ پروگرام 2023 میں بیجنگ اور صوبہ گوانگ ڈونگ میں آزمائشی بنیادوں پر شروع کیا گیا تھا۔ جون 2026 کے اختتام تک 260 سے زائد کثیر القومی کمپنیاں اس پروگرام میں رجسٹر ہو چکی تھیں جس سے ملک کے اندر اور بیرون ملک 5 ہزار 500 سے زیادہ رکن کمپنیاں مستفید ہوئیں۔
نوٹس میں رجسٹریشن کے طریقہ کار کو مزید آسان بنانے کے لئے غیر ملکی زرمبادلہ کے مقامی دفاتر میں تمام سہولتیں ایک ہی چھت تلے نظام متعارف کرانے کا بھی اعلان کیا گیا ہے جبکہ شریک بینکوں کو رجسٹریشن کی تبدیلیوں کی بعض کارروائی انجام دینے کی اجازت بھی دی گئی ہے۔
اس میں سرحد پار سرمائے کی منتقلی سے متعلق خطرات سے بچنے کے لئے نگرانی کے قواعد اور تقاضے بھی مقرر کئے گئے ہیں۔
حالیہ برسوں میں چین نے کثیر القومی کمپنیوں کے لئے سرحد پار نقد رقوم کے انتظام کے دو پروگرام تیار کئے ہیں۔ ان میں سے ایک پروگرام رین من بی اور غیر ملکی کرنسی کی نقد رقم کو جامع طریقے سے یکجا کرنا ہے جوبڑی کثیر القومی کمپنیوں کے لئے ہے جس میں شامل ہونے کی شرائط سخت ہیں لیکن اس میں زیادہ سہولت اور رقوم کی منتقلی کی حد زیادہ رکھی گئی ہے۔
جبکہ سرحد پار آر ایم بی اور غیر ملکی کرنسی فنڈز کے مرکزی آپریشن و انتظام کا پروگرام نسبتاً وسیع پیمانے پر کثیر القومی کمپنیوں کے لئے تیار کیا گیا ہے جس میں شمولیت کا معیار آسان اور طریقہ کار سادہ ہے تاہم رقوم کی منتقلی کی حدیں نسبتاً کم ہیں۔


