دبئی (شِنہوا) متحدہ عرب امارات کے ایک سینئر بینکار نے کہا ہے کہ متحدہ عرب امارات (یو اے ای) اور چین کے درمیان بڑھتے ہوئے مالیاتی روابط، جنہیں چینی کرنسی رین من بی (آر ایم بی) کے وسیع تر استعمال، ڈیجیٹل ادائیگیوں اور سرحد پار مالیاتی خدمات سے تقویت مل رہی ہے، دوطرفہ تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ میں اہم کردار ادا کریں گے۔
نیشنل بینک آف راس الخیمہ، جسے ریک بینک بھی کہا جاتا ہے، کے گروپ چیف ایگزیکٹو آفیسر راحیل احمد نے ایک حالیہ انٹرویو میں شِنہوا کو بتایا کہ ’’جیسے جیسے مزید چینی کمپنیاں متحدہ عرب امارات میں اپنے کاروبار قائم کر رہی ہیں، مالیاتی انفراسٹرکچر کی اہمیت میں بھی مسلسل اضافہ ہوگا۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ آنے والے برسوں میں رین من بی کی بین الاقوامی حیثیت میں اضافہ، مقامی کرنسیوں میں لین دین، تجارتی فنانسنگ، کیپٹل مارکیٹ کے باہمی روابط اور ڈیجیٹل فنانس چین اور متحدہ عرب امارات کے درمیان مالیاتی تعاون کے اہم ستون ہوں گے۔
1976 میں قائم ہونے والا اور شمالی امارت راس الخیمہ میں صدر دفتر رکھنے والا ریک بینک متحدہ عرب امارات کے قدیم ترین بینکوں میں سے ایک ہے اور دو دہائیوں سے زائد عرصے سے چینی صارفین کو خدمات فراہم کر رہا ہے۔
راحیل احمد نے کہا کہ ’’ماضی میں متحدہ عرب امارات بنیادی طور پر چینی کمپنیوں کے لئے تجارتی مرکز اور مصنوعات کی تقسیم کا مرکز تھا۔ آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ زیادہ سے زیادہ چینی کمپنیاں متحدہ عرب امارات کو ترقی، سرمایہ کاری اور اختراع کے لئے علاقائی پلیٹ فارم کے طور پر استعمال کر رہی ہیں۔‘‘


