ہومتازہ ترینچین کے جنوبی علاقے گوانگ شی میں کھدائی سے نکلی مٹی زرعی...

چین کے جنوبی علاقے گوانگ شی میں کھدائی سے نکلی مٹی زرعی وسیلہ بن گئی

کھدائی سے نکلنے والی وہ مٹی اور پتھر جنہیں کبھی تعمیراتی فضلہ سمجھا جاتا تھا اب انہیں چین کے جنوبی علاقے گوانگ شی میں زرعی ترقی کے ایک وسیلے میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔

ساؤنڈ بائٹ 1 (انگریزی): ہینسن نیکو رینے، لکسمبرگ سے تعلق رکھنے والا شہری
’’کچرا اب کچرا نہیں رہا۔ اسے دوبارہ کارآمد بنایا جا سکتا ہے۔
خربوزے کے ذائقے چکھنے کی اس تقریب میں خوش آمدید۔ یہاں ایک خاص بات یہ ہے کہ ہمارے پاس پھلوں کی 100 سے زیادہ مختلف اقسام ہیں۔ یہ تمام اقسام پِنگ لو کینال کی کھدائی سے حاصل ہونے والی اس بالکل نئی قابلِ کاشت مٹی میں اُگ رہی ہیں۔‘‘

134.2 کلومیٹر طویل پِنگ لو کینال کی تعمیر کے لئے تقریباً 31 کروڑ 50 لاکھ مکعب میٹر مٹی اور پتھر نکالے گئے۔ یہ نہر نان ننگ شہر کو بی بو خلیج سے ملاتی ہے۔

اس تجرباتی زرعی مقام پر گوانگ شی یونیورسٹی کے محققین مٹی کا جائزہ لے رہے ہیں اور اسے خربوزوں، چیری ٹماٹروں، بینگن اور مرچوں سمیت 300 سے زائد اقسام کی فصلیں اگانے کے لئے استعمال رہے ہیں۔

ساؤنڈ بائٹ 2 (انگریزی): ہینسن نیکو رینے، لکسمبرگ سے تعلق رکھنے والا شہری
’’آپ کو یہاں بہت سارے پتھر نظر آتے ہیں لیکن یہ بالکل نئی مٹی ہے۔ جب پِنگ لو کینال کی کھدائی کی گئی تو بہت بڑی مقدار میں یہ مٹی نکالی گئی تھی۔ یہ ایسی مٹی ہے جس پر پہلے کبھی کاشت نہیں کی گئی۔ یہ بالکل نئی مٹی ہے۔
تب پروفیسر تانگ اور میرے دوست شیاؤفو نے یونیورسٹی میں اس مٹی کا کیمیائی تجزیہ کیا۔ انہوں نے یہ جاننے کی کوشش کی کہ اس مٹی کی کیا خصوصیات ہیں اور کیا یہ زراعت کے لئے موزوں ہو سکتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ’ہاں، یہ بالکل موزوں ہے۔‘‘

ساؤنڈ بائٹ 3 (انگریزی): ہینسن نیکو رینے، لکسمبرگ سے تعلق رکھنے والا شہری
’’یہ ایک کامیاب تجربہ ہے۔ اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ اب مقامی کسان بھی اس طریقے کو اپنائیں گے۔ وہ اپنی زمین پر بھی وہی کچھ کر سکتے ہیں جو یہاں کیا جا رہا ہے۔ اب ہمارے پاس بہت زیادہ مٹی موجود ہے۔ جی ہاں آپ اسے استعمال کر سکتے ہیں۔‘‘

نان ننگ، چین سے شِنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کی رپورٹ

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں