ہومUncategorizedپاکستان میں شفافیت کی پہلی قومی رپورٹ جاری، حکمرانی اور عوامی اعتماد...

پاکستان میں شفافیت کی پہلی قومی رپورٹ جاری، حکمرانی اور عوامی اعتماد جانچنے کے لیے نیا فریم ورک متعارف

اسلام آباد (لارڈ میڈیا) پاکستان میں شفافیت، حکمرانی، ادارہ جاتی کارکردگی اور عوامی اعتماد کا جامع جائزہ پیش کرنے والی پہلی قومی نمائندہ "اسٹیٹ آف ٹرانسپیرنسی اِن پاکستان رپورٹ 2026” بدھ کو جاری کر دی گئی، جس میں شہریوں کے تجربات اور آرا کی بنیاد پر حکمرانی کا ایک شواہد پر مبنی فریم ورک متعارف کرایا گیا ہے۔
ورلڈ اکنامک فورم کے کنٹری پارٹنر انسٹی ٹیوٹ مشعل پاکستان کی جانب سے تیار کی گئی اس رپورٹ میں پہلی مرتبہ TARL فریم ورک (شفافیت، احتساب، قانون کی حکمرانی اور جواز) کے تحت پاکستان میں حکمرانی کا بنیادی قومی معیار (Baseline) قائم کیا گیا ہے۔
مشعل پاکستان کے مطابق رپورٹ چاروں صوبوں، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان میں دو ہزار افراد پر مشتمل ملک گیر سروے، ماہرین سے مشاورت اور ادارہ جاتی تجزیے کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔
رپورٹ کی مرکزی مصنفہ اور مشعل پاکستان کی ڈائریکٹر پرویش چوہدری نے کہا کہ یہ رپورٹ قومی سطح پر ایک ایسا معیار قائم کرتی ہے جس کا مقصد قابل اعتماد شواہد کے ذریعے اداروں کو مزید مضبوط بنانا ہے۔
انہوں نے کہا، "شفافیت کا مقصد اداروں کو بے نقاب کرنا نہیں بلکہ انہیں مضبوط بنانا ہے۔ یہ رپورٹ اس بات کے قابل اعتماد شواہد فراہم کرتی ہے کہ کون سے شعبے بہتر کام کر رہے ہیں اور کہاں مزید بہتری کی ضرورت ہے، تاکہ پالیسی سازی، تعمیری عوامی مکالمے اور حکمرانی میں اصلاحات کے لیے مشترکہ بنیاد فراہم کی جا سکے۔”
مشعل پاکستان کے چیف ایگزیکٹو آفیسر امیر جہانگیر نے کہا کہ شفافیت اب ایک اسٹریٹجک قومی صلاحیت بن چکی ہے، جو ممالک کو سرمایہ کاری کے حصول، عوامی خدمات کی بہتری اور مضبوط معیشت کی تشکیل میں مدد دیتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ رپورٹ پہلی مرتبہ شہریوں کے عملی تجربات کی بنیاد پر حکمرانی کا قومی شواہدی ذخیرہ فراہم کرتی ہے، جو محض تاثرات کے بجائے حقائق کی بنیاد پر سالانہ احتسابی نظام کی بنیاد رکھے گی۔
رپورٹ کے مطابق بین الاقوامی گورننس انڈیکس کے برعکس اس میں عام شہریوں کے روزمرہ تجربات کو بنیاد بنایا گیا ہے تاکہ پالیسی سازوں، قانون سازوں، ریگولیٹرز، کاروباری اداروں، ترقیاتی شراکت داروں اور سول سوسائٹی کو حکمرانی میں اصلاحات کے لیے قابل اعتماد ڈیٹا فراہم کیا جا سکے۔
مشعل پاکستان نے بتایا کہ پاکستان ریفارمز رپورٹ 2026 میں وفاقی حکومت کے 135 اداروں میں 600 سے زائد اصلاحات کا اندراج کیا گیا، جن میں شفافیت، احتساب اور عوامی خدمات کی فراہمی بہتر بنانے کے لیے 200 سے زیادہ ڈیجیٹل اقدامات شامل ہیں۔
رپورٹ کے اہم نتائج کے مطابق تقریباً 80 فیصد جواب دہندگان کی عمر 18 سے 35 سال کے درمیان تھی، جو حکمرانی سے متعلق قومی ترجیحات کے تعین میں نوجوانوں کے بڑھتے ہوئے کردار کی عکاسی کرتا ہے۔
سروے میں سماجی اعتماد کی بھی مضبوط سطح سامنے آئی، جہاں 63 فیصد افراد نے اپنے ذاتی جاننے والوں پر اعتماد کا اظہار کیا، 53 فیصد نے عمومی طور پر لوگوں پر اعتماد ظاہر کیا جبکہ 52 فیصد نے اجنبی افراد پر بھی اعتماد کا اظہار کیا۔
قومی اداروں پر عوامی اعتماد کے حوالے سے رپورٹ میں بتایا گیا کہ 82 فیصد جواب دہندگان نے ملکی سرحدوں کے تحفظ میں مسلح افواج پر اعتماد کا اظہار کیا، جبکہ 74 فیصد نے دہشت گردی کے خلاف ان کے کردار کو سراہا۔
رپورٹ کے مطابق تقریباً 40 فیصد افراد نے اعلیٰ عدلیہ پر غیر جانبدار یا مثبت اعتماد کا اظہار کیا، جبکہ تقریباً ایک تہائی جواب دہندگان نے پارلیمنٹ کی مالیاتی نظم و ضبط، ادارہ جاتی مضبوطی، فلاحی قانون سازی اور انسدادِ بدعنوانی کے اقدامات کو تسلیم کیا۔
سروے میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر)، پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے)، ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی)، قومی احتساب بیورو (نیب)، سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی)، پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) اور آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) سمیت اہم ریگولیٹری اداروں سے متعلق عوامی آگاہی بھی نمایاں رہی۔
رپورٹ میں پاکستان میں ڈیجیٹل حکمرانی میں پیش رفت کا بھی ذکر کیا گیا، جہاں 54 فیصد جواب دہندگان نے کہا کہ ملک ڈیجیٹل مستقبل کی جانب بڑھ رہا ہے، 52 فیصد کے مطابق ای گورنمنٹ خدمات سے عوامی سہولتوں میں بہتری آئی ہے، جبکہ 45 فیصد نے رائے دی کہ ٹیکنالوجی بدعنوانی کے خاتمے میں مددگار ثابت ہو رہی ہے۔
اس موقع پر مشعل پاکستان نے پاکستان ٹرانسپیرنسی انڈیکس (PTI) کی تیاری کا بھی اعلان کیا، جو سالانہ بنیادوں پر قومی شواہد کے ذریعے اداروں کی کارکردگی، حکمرانی میں اصلاحات اور عوامی اعتماد کا جائزہ لے گا۔
ادارے کے مطابق اسٹیٹ آف ٹرانسپیرنسی اِن پاکستان رپورٹ 2026 کو ہر سال شائع کیا جائے گا تاکہ شواہد پر مبنی پالیسی سازی کو فروغ دیا جا سکے اور ملک میں حکمرانی کے نظام میں مسلسل بہتری لائی جا سکے۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں