نیویارک (لارڈ میڈیا): اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ سوڈان میں جاری تنازعہ کی وجہ سے بڑے پیمانے پر نقل مکانی اور امدادی فنڈز کی کمی کے باعث انسانی ضروریات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اقوام متحدہ کے دفتر برائے رابطہ انسانی امور (او سی ایچ اے) نے بتایا ہے کہ شمالی کردفان کے دارالحکومت الابیض میں موجودہ بدامنی کی صورتحال کی وجہ سے انسانی امداد کی ضرورت میں اضافہ ہو رہا ہے۔
اقوام متحدہ اور اس کے شراکت دار الابیض میں متاثرہ افراد تک امداد پہنچا رہے ہیں حالانکہ ریاستی دارالحکومت کے گرد سکیورٹی صورتحال مشکل ہے۔ او سی ایچ اے کے مطابق، امدادی کارکنوں نے پانی کی شدید قلت کے دوران تقریباً 20 لاکھ لیٹر پینے کا صاف پانی فراہم کیا جس سے 1 لاکھ 33 ہزار افراد مستفید ہوئے۔
مغربی دارفور میں عالمی ادارہ مہاجرت کے مطابق، سربا کے علاقے میں لڑائی کے نتیجے میں 18 ہزار افراد بے گھر ہو چکے ہیں، جن میں سے بیشتر سرحد عبور کرکے چاڈ چلے گئے ہیں۔ وسطی دارفور میں فنڈز کی کمی کے باعث تین طبی مراکز بند ہوگئے ہیں، جس سے 75 ہزار بے گھر افراد صحت کی سہولیات سے محروم ہو گئے ہیں۔
اقوام متحدہ نے عطیہ دہندگان سے اپیل کی ہے کہ وہ سوڈان کے لئے انسانی امدادی اپیل کے لیے مزید فنڈز فراہم کریں، جس کے تحت مطلوبہ 2.9 بلین امریکی ڈالر میں سے 1.2 بلین ڈالر موصول ہوئے ہیں۔ اقوام متحدہ نے فریقین پر زور دیا کہ وہ شہریوں کا تحفظ یقینی بنائیں اور انسانی امداد کی تیز، محفوظ اور بلا رکاوٹ رسائی کو ممکن بنائیں۔
یو این سیکرٹری جنرل کے نائب ترجمان فرحان حق نے بتایا کہ سوڈان کے لئے اقوام متحدہ کے سربراہ کے ذاتی ایلچی پیکا ہاویستو نے سوڈانی مسلح افواج اور ریپڈ سپورٹ فورسز کے نمائندوں سے جنگ بندی کی کوششوں کے لئے ملاقاتیں کی ہیں۔


