واشنگٹن (لارڈ میڈیا): امریکی نیوز ویب سائٹ ایکسیوس کے مطابق شام نے امریکا اور اسرائیل کے ساتھ ایک معاہدہ طے کیا ہے جس کے تحت شام کی خفیہ جوہری تنصیب ‘سائٹ 99’ سے ایٹمی مواد منتقل کیا جائے گا۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس معاہدے کی کوششیں امریکا کی سفارتی کوششوں کے ذریعے کی گئی ہیں جبکہ بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) اس مواد کو منتقل کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔
سائٹ 99 پر سابق صدر بشار الاسد کے دور میں مبینہ طور پر ‘یلو کیک’ سمیت جوہری مواد ذخیرہ کیا گیا تھا جسے الکِبار ری ایکٹر کے منصوبے کے لیے استعمال ہونا تھا۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ مواد براہِ راست جوہری ہتھیار بنانے کے لیے موزوں نہیں، مگر ‘ڈرٹی بم’ کی تیاری میں استعمال ہو سکتا ہے، جس پر سکیورٹی کے حوالے سے تشویش پائی جاتی ہے۔
شام کے صدر احمد الشرع نے اس مواد کو تنصیب سے نکالنے پر رضامندی ظاہر کی ہے جبکہ اسرائیلی دھمکیوں کے بعد یہ پیش رفت سامنے آئی ہے۔
اسرائیلی فورسز پہلے ہی تنصیب کے داخلی راستوں پر بمباری کر چکی ہیں اور مزید حملے کی دھمکی بھی دی تھی۔ امریکی حکام کے مطابق مواد نکالنے کا عمل جلد شروع ہونے کی توقع ہے اور اسے سال کے اختتام تک مکمل کرنے کا ہدف ہے۔


