ہومبیلٹ اینڈ روڈ+سی پیکپاک۔چین کہانیاں |پاکستانی میڈیکل طالب علم کا چھونگ چھنگ میں روایتی چینی...

پاک۔چین کہانیاں |پاکستانی میڈیکل طالب علم کا چھونگ چھنگ میں روایتی چینی طب کا مشاہدہ

چھونگ چھنگ (شِنہوا) چین کا "سائبر پنک سٹی” کہلایا جانے والا چھونگ چھنگ شہر جب شدید گرمی کی لپیٹ میں آیا، تو پاکستانی میڈیکل کے طالب علم طارق اعظم نے اس موسم کا مقابلہ کرنے کے لئے ایک منفرد چینی طریقہ اختیار کیا۔

چھونگ چھنگ میڈیکل یونیورسٹی کے دوسرے ملحقہ ہسپتال کے روایتی چینی طب (ٹی سی ایم) کلینک میں طارق اعظم نے آکوپنکچر، موکسی بسشن اور کان کے ذریعے علاج کا تجربہ کیا۔ یہ روایتی طریقہ علاج سال کے گرم ترین دنوں میں لوگوں کو شہر کے گرم اور مرطوب موسم سے ہم آہنگ ہونے میں مدد دینے کے لئے عام طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔

طارق نے حال ہی میں چھونگ چھنگ میڈیکل یونیورسٹی سے ہیپاٹو بلیئری سرجری میں ماسٹرز کی ڈگری مکمل کی ہے۔ ان کے لئے یہ تجربہ نہ صرف جسمانی سکون کا باعث بنا بلکہ چین کی قدیم ترین طبی روایات میں سے ایک کو گہرائی سے سمجھنے کا موقع بھی فراہم کیا۔

مطالعے اور تحقیق کے طویل اوقات کے باعث انہیں دائیں کندھے میں تکلیف رہنے لگی تھی۔ آکوپنکچر اور موکسی بسشن کے علاج کے بعد انہوں نے نمایاں بہتری محسوس کی۔ انہیں کان کے ذریعے علاج بھی دیا گیا، جو اکثر نظام ہاضمہ کو بہتر بنانے اور جسم کو گرمیوں کی شدید گرمی اور نمی سے نمٹنے میں مدد دینے کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ طارق نے کہا کہ ’’یہ میری توقع سے کہیں زیادہ آرام دہ تجربہ تھا۔‘‘

ان کا یہ دورہ ’’سان فو‘‘ کے موسم کے دوران ہوا، جسے روایتی طور پر چین میں سال کا گرم ترین عرصہ سمجھا جاتا ہے۔ ہسپتال کے شعبہ روایتی چینی و مغربی طب کی معالج تیان شیویان نے بتایا کہ چھونگ چھنگ کا گرم اور مرطوب موسم آسانی سے تھکن، نظام ہاضمہ کی خرابی اور جسم میں اضافی نمی جیسے مسائل کا باعث بن سکتا ہے۔

تیان نے مزید بتایا کہ حالیہ برسوں میں بین الاقوامی سیاحوں اور دیگر غیر ملکی افراد میں روایتی چینی طب میں دلچسپی مسلسل بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’اب بہت سے غیر ملکی سیاح اپنے سفری پروگراموں میں آکوپنکچر، کپنگ تھراپی اور روایتی چینی مالش کو بھی شامل کرتے ہیں۔ پہلے ہمارے کلینک میں کوئی غیر ملکی نہیں آتا تھا، لیکن اب میں دیکھ رہی ہوں کہ ایسے افراد کی تعداد بڑھ رہی ہے۔‘‘

طارق واحد شخص نہیں تھے جو اس تجربے میں دلچسپی رکھتے تھے۔ ان کے ہمراہ پاکستانی طالب علم اشفاق اللہ بھی تھے، جنہوں نے گردن اور کندھے کی تکلیف کے لئے آکوپنکچر کا علاج کروایا۔ اشفاق اللہ نے بتایا کہ وہ اس سے فوری طور پر ملنے والے سکون پر حیران ہوئے اور اس کے بعد سے روایتی چینی طب کے بارے میں مزید جاننے میں دلچسپی لینے لگے ہیں۔

ہسپتال کے شعبہ روایتی چینی و مغربی طب کے معالج تو یانگ نے بتایا کہ ہسپتال طبی تعلیم کے شعبے میں بین الاقوامی تعاون کے امکانات تلاش کر رہا ہے اور امید ہے کہ مزید غیر ملکی طلبہ کو روایتی چینی طب کا تجربہ کرنے اور اس کا مطالعہ کرنے کے مواقع ملیں گے۔ تو یانگ نے کہا کہ ’’طبی تبادلے نوجوانوں کو ایک دوسرے کی ثقافتوں کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد دیتے ہیں اور صحت کے شعبے میں تعاون کے نئے مواقع بھی پیدا کرتے ہیں۔‘‘

چھونگ چھنگ میڈیکل یونیورسٹی کے دوسرے ملحقہ ہسپتال کے روایتی چینی طب (ٹی سی ایم) کلینک میں پاکستانی طالب علم طارق اعظم آکوپنکچر، موکسی بسشن اور کان کے ذریعے علاج کرواتے ہوئے دیکھے جا سکتے ہیں۔(شِنہوا)

طارق نے کہا کہ ’’پاکستان میں بہت سے لوگ چین کی ترقی اور کامیابیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ میرے چچا کا خیال تھا کہ چین بہترین طبی تعلیم اور نوجوانوں کے لئے وسیع مواقع فراہم کر سکتا ہے اور میرے خیال میں وہ درست تھے۔‘‘

چین میں ایک دہائی سے زائد عرصہ گزارنے کے تجربے کو یاد کرتے ہوئے طارق نے کہا کہ اس عرصے نے پاکستان اور چین کی دوستی کے لئے ان کی قدر و تحسین کو مزید گہرا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’اس تجربے نے مجھے محنت کرنے اور پاکستان اور چین کے درمیان طبی شعبے میں تعاون کے فروغ میں کردار ادا کرنے کی ترغیب دی۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ چین کی ٹیکنالوجی میں ترقی اور مضبوط طبی تعلیمی نظام پاکستانی طلبہ کی بڑھتی ہوئی تعداد کو اپنی جانب متوجہ کر رہا ہے۔

طارق اپنے تجربے کو وسیع تر چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کا حصہ سمجھتے ہیں، جس نے طب، مصنوعی ذہانت اور زرعی علوم سمیت مختلف شعبوں میں پاکستانی طلبہ کے لئے مواقع میں اضافہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’یہ پروگرام باصلاحیت افراد کی تربیت میں مدد دے رہے ہیں اور پاکستان کے نوجوانوں کے لئے حقیقی مواقع پیدا کر رہے ہیں۔‘‘ انہوں نے بتایا کہ ان کے تعلیمی ادارے میں 80 سے زیادہ پاکستانی طلبہ زیر تعلیم ہیں۔

اپنے تعلیمی سفر کے اگلے مرحلے کی تیاری کرتے ہوئے طارق پاکستان اور چین کے درمیان صحت اور طبی تعلیم کے شعبوں میں مزید مضبوط تعاون کے لئے کردار ادا کرنے کے خواہاں ہیں۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں