کیف (لارڈ میڈیا) یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی نے خبردار کیا ہے کہ شمالی کوریا روس کے ساتھ فوجی تعاون کو مزید بڑھاتے ہوئے 30 ہزار سے 50 ہزار تک فوجی اہلکار روس بھیجنے کی تیاری کر رہا ہے۔
زیلنسکی نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ اہلکار روسی فوج کی مدد کے ساتھ جدید جنگی تجربات، خصوصاً ڈرونز اور میدانِ جنگ کی نئی حکمتِ عملیوں کا تجربہ حاصل کر سکتے ہیں۔
ان کے مطابق شمالی کوریا روس کے ساتھ جنگی تجربات کا تبادلہ کرکے اپنی فوجی صلاحیتوں کو بڑھانا چاہتا ہے۔ زیلنسکی نے کہا کہ پیانگ یانگ روس سے جدید جنگی طریقے اور فوجی ٹیکنالوجی حاصل کرنے میں دلچسپی رکھتا ہے۔
واضح رہے کہ شمالی کوریا پہلے ہی روس کے ساتھ جنگ میں براہِ راست فوجی تعاون کر چکا ہے۔ 2024 کے اواخر میں تقریباً 11 ہزار شمالی کوریائی فوجیوں کی روسی علاقے، خصوصاً کرسک، میں تعیناتی کی تصدیق مختلف مغربی اور یوکرینی ذرائع نے کی تھی۔
تاہم 30 سے 50 ہزار نئے فوجیوں کی آمد کا دعویٰ زیلنسکی کی جانب سے سامنے آیا ہے، جس کی آزاد ذرائع سے مکمل تصدیق نہیں ہو سکی۔


