ہومتازہ ترین’’ضرورت سے زیادہ پیداواری صلاحیت‘‘ کے بیانیے سے آگے: چین کی صنعتی...

’’ضرورت سے زیادہ پیداواری صلاحیت‘‘ کے بیانیے سے آگے: چین کی صنعتی ترقی کا حقیقی تناظر

بیجنگ (شِنہوا) چین اپنی پیداوار کی بنیاد کو اپ گریڈ کرنے اور الیکٹرک گاڑیوں سے لے کر قابل تجدید توانائی کے آلات تک مختلف شعبوں میں پیداوار بڑھانے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے، تاہم بعض مغربی ممالک نے ایک بار پھر چین کی ’’ضرورت سے زیادہ پیداواری صلاحیت‘‘ کے دعوے دہرائے ہیں تاکہ نئے محصولات اور سرمایہ کاری پر پابندیوں کا جواز پیش کیا جا سکے۔

تاہم الزامات کی تازہ لہر محض پیداواری صلاحیت کے سوال سے آگے بڑھ گئی ہے اور بعض معیشتوں میں صنعتی مسابقت اور مارکیٹ میں پوزیشن کے حوالے سے بڑھتی ہوئی تشویش کی عکاسی کرتی ہے۔ وسیع تر مسئلہ یہ ہے کہ تکنیکی تبدیلیوں اور عالمی سپلائی چینز کی ازسرنو تشکیل کے دوران پیداواری صلاحیت، مسابقت اور صنعتی تعاون کو کس طرح دیکھا جانا چاہیے۔

’’اوور کیپیسٹی‘‘ کی عالمی سطح پر کوئی متفقہ تعریف موجود نہ ہونے کے باعث بعض سیاست دانوں کے لئے یہ تصور اقتصادی اور تجارتی معاملات کو سیاسی رنگ دینے کا آسان ذریعہ بن گیا ہے، جہاں چین کی سبسڈیز، تجارتی سرپلس اور برآمدی حجم کو ’’غیر منصفانہ‘‘ مسابقت اور ’’ضرورت سے زیادہ پیداواری صلاحیت‘‘ کی علامت قرار دیا جاتا ہے۔

چین دنیا کا سب سے بڑا اور جامع ترین مینوفیکچرنگ نظام رکھتا ہے، جس کی بدولت وہ صنعتی مصنوعات کی وسیع اقسام بڑے پیمانے پر موثر انداز میں فراہم کرنے کے قابل ہے۔

وزارت تجارت کے ایک عہدیدار حہ شاؤ جون نے کہا کہ ’’چین کا تجارتی سرپلس اس کے صنعتی نظام کی جامعیت اور کارکردگی کی عکاسی کرتا ہے اور عالمی تخصص اور تجارتی ڈھانچے میں تبدیلیوں کا ایک معروضی نتیجہ ہے۔‘‘

بہت سے بیرونی مبصرین کے نزدیک چین کی صنعتی ترقی کو اب مصنوعی ذہانت، الیکٹرک گاڑیوں اور جدید بیٹریوں جیسے شعبوں کی تیز رفتار ترقی سے جانچا جاتا ہے۔

آج چین کی مسابقت کے پیچھے تحقیق و ترقی میں کئی دہائیوں کی سرمایہ کاری، وسیع ملکی منڈی کے فوائد، جامع صنعتی ماحولیاتی نظام اور مارکیٹ پر مبنی مسلسل اصلاحات کارفرما ہیں۔ اگرچہ بعض ممالک نے ایک بار پھر یہ مانوس بیانیہ دہرایا ہے کہ چین کی صنعتی ترقی حکومتی سبسڈیز سے چل رہی ہے، تاہم یہ شعبے قلیل مدتی پالیسی معاونت کے بجائے برسوں کے تکنیکی ارتقا، صنعتی اپ گریڈیشن اور مسلسل جدت کا نتیجہ ہیں۔

چین کی یہ مینوفیکچرنگ صلاحیت عالمی رسد کو مستحکم رکھنے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے اور تحفظ پسندی، جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور دیگر رکاوٹوں کے باعث پیدا ہونے والی مقامی قلت کو دور کرنے میں مدد دے رہی ہے، جبکہ یہ عالمی صنعتی اور سپلائی چینز کا ایک اہم ستون بھی ہے۔

اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ چین کی صنعتی اپ گریڈیشن نے اپنی سرحدوں سے کہیں آگے تک مواقع پیدا کئے ہیں۔

چین کے بین الاقوامی پیداوار اور تجارتی نیٹ ورکس میں انضمام سے غیر ملکی سرمایہ کاری کرنے والے اداروں، عالمی سپلائرز اور صارفین سب نے فائدہ اٹھایا ہے۔ اسی دوران کھپت میں بہتری، ماحول دوست منتقلی اور ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری کے باعث ملک میں بڑھتی ہوئی مقامی طلب دنیا بھر سے مصنوعات، ٹیکنالوجیز اور خدمات کے لئے پائیدار طلب پیدا کر رہی ہے۔

گزشتہ ایک دہائی کے دوران چین نے عالمی اقتصادی نمو میں تقریباً 30 فیصد حصہ ڈالا ہے اور وہ عالمی معیشت کے لئے استحکام کا ایک اہم ذریعہ بن گیا ہے۔

نام نہاد ’’اوور کیپیسٹی‘‘ پر بحث میں اکثر ایک وسیع تر تناظر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ بہت سی ترقی پذیر معیشتوں کے لئے چین کی کم لاگت اور موثر مصنوعات کی فراہمی ٹیکنالوجی، آلات اور صنعتی مہارت تک زیادہ رسائی فراہم کرتی ہے۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں