کیمبرج (لارڈ میڈیا) برطانیہ کی معروف کیمبرج یونیورسٹی کے کم عمر ترین سیاہ فام پروفیسر جیسن آرڈے نے اپنے تحقیقی کام میں سرقہ کے الزامات سامنے آنے پر استعفیٰ دے دیا ہے۔ یونیورسٹی نے تصدیق کی ہے کہ پروفیسر جیسن آرڈے کا استعفیٰ فوری طور پر نافذ العمل ہو گیا ہے جبکہ الزامات کی باقاعدہ تحقیقات جاری ہیں۔
جیسن آرڈے 2023 میں کیمبرج یونیورسٹی میں پروفیسر آف سوشیالوجی آف ایجوکیشن مقرر ہوئے تھے۔ وہ اپنی غیر معمولی زندگی کی داستان کے باعث دنیا بھر میں شہرت حاصل کر چکے تھے کیونکہ انھوں نے بچپن میں آٹزم، بولنے اور پڑھنے لکھنے میں شدید مشکلات پر قابو پا کر برطانیہ کی اعلیٰ ترین جامعات میں جگہ بنائی تھی۔
جولائی 2026 میں سابق کیمبرج محقق نیتھن کوفناس نے جیسن آرڈے کے 2015 کے پی ایچ ڈی مقالے اور متعدد تحقیقی مضامین کا جائزہ لینے کے بعد دعویٰ کیا کہ ان میں دیگر محققین کے کام سے مماثلت رکھنے والے متعدد اقتباسات موجود ہیں۔ بعد ازاں مختلف تجزیوں اور نقل کی جانچ کرنے والے سافٹ ویئر کے ذریعے بھی کئی حصوں میں نمایاں مشابہت کی نشاندہی کی گئی جس کے بعد معاملہ تیزی سے سامنے آیا۔
تحقیقات صرف تحقیقی مقالوں میں مبینہ نقل تک محدود نہیں رہیں بلکہ آرڈے کی تعلیمی اور پیشہ ورانہ سوانح میں کیے گئے بعض دعوؤں پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ ان کے بعض سابقہ تعلیمی اداروں نے ان سے منسوب کچھ اعزازی عہدوں یا وابستگیوں کی تصدیق نہیں کی جبکہ خیراتی سرگرمیوں، کھیلوں کے کارناموں اور بعض دیگر ذاتی دعوؤں کے بارے میں بھی شکوک و شبہات ظاہر کیے گئے ہیں۔
کیمبرج یونیورسٹی نے بتایا کہ نئے شواہد سامنے آنے کے بعد تحقیقات کا آغاز کردیا ہے تاہم یونیورسٹی نے مزید تبصرہ کرنے سے گریز کرتے ہوئے کہا ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے تک منصفانہ طریقہ کار پر عمل کیا جائے گا تاہم ادارہ اس دوران جیسن آرڈے کی معاونت بھی جاری رکھے گا۔
رپورٹس کے مطابق جیسن آرڈے کے پی ایچ ڈی مقالے پر اس سے قبل بھی نقل کے الزامات لگے تھے تاہم اس وقت لیورپول جان مورز یونیورسٹی نے انہیں مسترد کرتے ہوئے انہیں غیر ارادی غلطیاں قرار دیا تھا۔ حالیہ مہینوں میں سامنے آنے والے نئے شواہد کے بعد یہ معاملہ دوبارہ کھل گیا اور بالآخر آرڈے نے استعفیٰ دے دیا۔
جیسن آرڈے کی زندگی کو طویل عرصے تک کامیابی کی علامت سمجھا جاتا رہا۔ انہوں نے متعدد انٹرویوز میں بتایا تھا کہ بچپن میں وہ آٹزم اور دیگر مسائل کی وجہ سے معمول کی تعلیم حاصل نہیں کر سکے اور 18 برس کی عمر میں پڑھنا اور لکھنا سیکھا تھا۔ جس کے بعد انھوں نے اعلیٰ تعلیم حاصل کر کے برطانیہ کی ممتاز جامعات میں تدریس شروع کی۔ ان کی یہی داستان انہیں بین الاقوامی سطح پر شہرت دلانے کا سبب بنی مگر اب تحقیقی دیانت داری سے متعلق الزامات نے ان کے کیریئر کو شدید دھچکا پہنچایا ہے۔
اس تنازع کے باوجود ان کی خودنوشت ’’Great and Unfortunate Things‘‘ کی اشاعت فی الحال منسوخ نہیں کی گئی۔ ناشر کا کہنا ہے کہ کتاب منصوبے کے مطابق شائع کی جائے گی۔


