بیجنگ (شِنہوا) چین کے شین ژو-21 کے 3 رکنی خلانورد عملے نے بیجنگ میں ذرائع ابلاغ سے ملاقات کی۔ رواں سال مئی میں زمین پر واپسی کے بعد وہ پہلی بار سامنے آگئے ہیں۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ خلانورد ژانگ لو، وو فے اور ژانگ ہونگ ژانگ جسمانی اور ذہنی طور پر اچھی حالت میں ہیں، جبکہ ان کی پٹھوں کی طاقت، برداشت اور قلبی صحت بڑی حد تک پرواز سے پہلے والی سطح پر بحال ہو چکی ہے۔ وہ اب صحت یابی کے مشاہداتی مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں اور حتمی طبی معائنے کے بعد معمول کی تربیت دوبارہ شروع کریں گے۔
شین ژو-21 کے عملے نے 31 اکتوبر 2025 کو روانگی سے لے کر 29 مئی 2026 کو واپسی تک خلا میں 210 روز گزارے، جو چینی خلانوردوں کی ایک ہی مشن میں خلا میں قیام کی اب تک کی طویل ترین مدت کا نیا ریکارڈ ہے۔
اس مشن کے دوران عملے نے 3 خلائی چہل قدمیاں مکمل کیں، خلائی سائنس سے متعلق متعدد تجربات انجام دیئے اور خاص طور پر چین کے انسانی خلائی پروگرام کی تاریخ میں پہلی مرتبہ مدار میں کئے جانے والے ہنگامی امدادی آپریشن کا مشاہدہ بھی کیا اور اس میں حصہ بھی لیا۔
مشن کے کمانڈر ژانگ لو نے کہا کہ "ہمارے قیام کے دوران چین کے انسانی خلائی پروگرام کے ہنگامی ردعمل کے نظام کا حقیقی حالات میں کامیاب امتحان ہوا۔ خلائی ملبے سے خلائی جہاز کو پہنچنے والے نقصان سے نمٹنے، مداری شیڈول میں تبدیلی، واپسی کے خلائی جہاز کی تبدیلی اور ہنگامی لانچ کے نفاذ تک پورے نظام نے انتہائی موثر انداز میں کام کیا اور ہماری سلامتی کو یقینی بنایا۔”
ژانگ نے کہا کہ انہیں چین کے خلائی شعبے کے پراعتماد طرز عمل، سائنسی طریقہ کار کی مضبوطی اور غیر متزلزل ٹیم ورک نے سب سے زیادہ متاثر کیا۔
ژانگ نے شین ژو-15 اور شین ژو-21 سمیت 2 مشنز کے دوران مجموعی طور پر سات خلائی چہل قدمیاں مکمل کی ہیں، جس کے بعد وہ چین کی تاریخ کے سب سے تجربہ کار خلائی چہل قدمی کرنے والے خلانورد بن گئے ہیں۔
وو فے، جنہوں نے اس سے قبل تیان حہ مرکزی ماڈیول اور وین تیان تجربہ گاہی ماڈیول کی تیاری میں بھی کردار ادا کیا تھا، نے کہا کہ مدار میں انہی آلات کو چلانا جنہیں وہ زمین پر پہلے آزما چکے تھے، ان کے لئے ایک مانوس تجربہ تھا۔ انہوں نے کہا کہ "زمین پر حاصل کیا گیا تمام تجربہ خلا میں درست آپریشن اور بروقت فیصلے کرنے کے لئے میرے اعتماد اور اطمینان کا باعث بنا۔”
پے لوڈ ماہر ژانگ ہونگ ژانگ نے مشن کے دوران حاصل ہونے والی کئی سائنسی کامیابیوں کا ذکر کیا، جن میں مدار میں چین کی جانب سے پہلی بار چیری ٹماٹروں اور گندم کی کامیاب ایئروپونک کاشت، خلا میں چوہوں کی کلوزڈ لوپ افزائش نسل اور موثر سپیکٹرل و پانی-کھاد کے استعمال سے متعلق اہم ٹیکنالوجیز کی توثیق شامل ہیں۔
تحقیقی سرگرمیوں کے علاوہ عملے نے خلا میں 10 سے زائد اقسام کی فصلیں بھی اگائیں، جن میں گندم، سورج مکھی، ٹماٹر، شکر قندی اور پودینہ شامل ہیں۔ ان فصلوں کی کاشت نے نہ صرف مدار میں زرعی ٹیکنالوجی کو بہتر بنانے میں مدد دی بلکہ خلانوردوں کی مصروف خلائی زندگی میں خوشی اور تازگی بھی پیدا کی۔


