شہر (لارڈ میڈیا): چاول کا پانی قدرتی گھریلو نسخوں میں خاصی توجہ حاصل کر رہا ہے، خاص طور پر سوشل میڈیا پر اس کے بالوں کی بڑھوتری کے فوائد کے دعوے کیے جاتے ہیں۔ مشرقی ایشیا کی خواتین اسے خوبصورتی کے لیے عرصہ دراز سے استعمال کرتی آئی ہیں۔ تاہم، سوال یہ ہے کہ کیا ان دعووں کی کوئی سائنسی بنیاد بھی موجود ہے؟
تحقیق کے مطابق چاول کو ابلنے یا بھگونے کے بعد بچنے والا پانی غذائی اجزاء سے بھرپور ہوتا ہے، جس میں وٹامن بی، وٹامن ای، معدنیات اور اینٹی آکسیڈنٹس شامل ہوتے ہیں۔ یہ اجزاء جلد اور بالوں کی نگہداشت کے لیے مفید سمجھے جاتے ہیں۔
2010 میں انٹرنیشنل جرنل آف کاسمیٹک سائنس میں شائع شدہ تحقیق میں چاول کے پانی کی افادیت پر روشنی ڈالی گئی۔ تحقیق سے معلوم ہوا کہ چاول کے پانی میں ‘انوسیٹول’ نامی کاربوہائیڈریٹ موجود ہوتا ہے جو بالوں کو مضبوط بنانے میں مدد دیتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ چاول کا پانی بالوں کا گرنا کم کر سکتا ہے اور انہیں چمکدار بنا سکتا ہے، لیکن یہ بالوں کی تیز رفتار نشوونما کا معجزاتی علاج نہیں۔ بالوں کی صحت پر جینیاتی عوامل، طرز زندگی اور متوازن غذا بھی اثرانداز ہوتے ہیں۔
اعتدال میں چاول کا پانی استعمال کرنے کا مشورہ دیا جاتا ہے کیونکہ زیادہ استعمال سے بال سخت یا خشک ہو سکتے ہیں۔ ماہرین متوازن غذا، مناسب نیند اور ذہنی دباؤ کو کم رکھنے پر زور دیتے ہیں کیونکہ یہ بالوں کی نشوونما میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔


