اسلام آباد (لارڈ میڈیا): سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) نے فروری سے جون 2026 کے دوران مختلف کمپنیوں پر ضابطوں کی خلاف ورزیوں کے باعث 531 کارروائیاں کرتے ہوئے 4.73 ارب روپے سے زائد جرمانے عائد کیے ہیں۔ ایس ای سی پی نے تمام لسٹڈ اور غیر لسٹڈ کمپنیوں، مالیاتی اداروں اور انشورنس کمپنیوں میں ضابطوں کی پابندی کو سخت کرتے ہوئے کارروائیاں تیز کردی ہیں تاکہ مارکیٹ کا تقدس بحال اور سرمایہ کاروں کا تحفظ کیا جا سکے۔
کارروائیوں کے دوران لسٹڈ کمپنیوں کے قانون کی خلاف ورزیوں پر 99 کارروائیاں کی گئیں اور 91 لاکھ روپے سے زائد جرمانے عائد کیے گئے۔ ان خلاف ورزیوں میں وقت پر اجلاس نہ کرنا، رپورٹنگ کے اصول توڑنا، اور بورڈ آف ڈائریکٹرز میں خواتین اور آزاد ڈائریکٹرز کا شامل نہ ہونا شامل تھا۔
کیپٹل مارکیٹ میں سیکیورٹیز ایکٹ اور منی لانڈرنگ کے قوانین کی خلاف ورزی پر 69 کارروائیاں ہوئیں اور 16 لاکھ روپے سے زائد جرمانہ عائد کیا گیا۔ نان بینکنگ فنانس کمپنیوں کے خلاف گاہکوں کی تصدیق نہ کرنے پر 53 کارروائیاں کی گئیں اور ساڑھے 14 لاکھ روپے سے زائد جرمانے عائد کیے گئے۔
انشورنس کے شعبے میں مالی استحکام کے اصول توڑنے پر 25 کارروائیاں ہوئیں اور 21 لاکھ روپے سے زائد جرمانے عائد کیے گئے۔ پرائیویٹ اور غیر لسٹڈ کمپنیوں کے زمرے میں 285 کارروائیاں کی گئیں اور 4.7 ارب روپے کے جرمانے عائد کیے گئے۔
سرکاری اداروں کے خلاف 117 کارروائیاں کی گئیں جن میں سے 87 پر جرمانے کیے گئے اور 30 کو تنبیہ کی گئی ہے۔ چیئرمین ایس ای سی پی ڈاکٹر کبیر احمد سدھو نے کہا ہے کہ قانون پر عمل کرنا لازمی ہے اور خلاف ورزیوں پر کوئی رعایت نہیں دی جائے گی۔


