جوہانسبرگ (شِنہوا) ایک رپورٹ کے مطابق 2026 کی پہلی ششماہی کے دوران یورپ اور جنوبی افریقہ میں الیکٹرک گاڑیوں (ای ویز) کی طلب میں مسلسل اضافہ ہوا جبکہ چینی گاڑی ساز کمپنیوں نے بھی اپنی موجودگی مزید مضبوط کی کیونکہ صارفین تیزی سے الیکٹرک گاڑیوں کو اپنانے لگے ہیں۔
عالمی آن لائن کلاسیفائیڈز پلیٹ فارم او ایل ایکس گروپ کی جاری کردہ رپورٹ میں فرانس، رومانیہ، پرتگال، پولینڈ اور جنوبی افریقہ میں صارفین کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا گیا۔
"دی گریٹ ایکسیلریشن: ایسٹ میٹس الیکٹرک” کے عنوان سے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق جون میں ان پانچوں ممالک میں الیکٹرک گاڑیوں سے متعلق صارفین کی دلچسپی میں گزشتہ سال کے مقابلے میں دو ہندسوں یا تین ہندسوں تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ فرانس میں سب سے زیادہ 206 فیصد اضافہ ہوا، اس کے بعد جنوبی افریقہ میں 154.6 فیصد، رومانیہ میں 66فیصد، پرتگال میں 60 فیصد اور پولینڈ میں 34.3 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق مشرق وسطیٰ میں جغرافیائی سیاسی کشیدگی نے ابتدا میں الیکٹرک گاڑیوں کی طلب بڑھانے میں کردار ادا کیا، تاہم بعد میں صارفین کی دلچسپی میں کچھ کمی آئی لیکن یہ دلچسپی اب بھی فروری سے پہلے کی سطح سے زیادہ ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مارکیٹ عارضی اضافے کے بجائے مستقل ترقی کی جانب بڑھ رہی ہے۔
او ایل ایکس گروپ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر کرسچن گیسی نے کہا کہ چینی کارساز کمپنیاں دنیا بھر میں الیکٹرک گاڑیوں کی جانب منتقلی کو تیز کرنے میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جہاں الیکٹرک گاڑیوں کے استعمال کی رفتار بڑھ رہی ہے، وہاں چینی آٹو موبائل برانڈز کی طلب بھی اسی رفتار سے بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چینی کمپنیاں نسبتاً کم قیمت پر الیکٹرک گاڑیاں فراہم کر کے اس منڈی کو مزید وسعت دے رہی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق چینی برانڈز کی طلب میں سب سے زیادہ اضافہ فرانس میں ریکارڈ کیا گیا، جہاں صارفین کی دلچسپی گزشتہ سال کے مقابلے میں 276 فیصد بڑھ گئی۔ رومانیہ میں یہ اضافہ 119.2 فیصد، پولینڈ میں 94.6 فیصد اور پرتگال میں 74 فیصد رہا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ ان پانچوں ممالک میں طلب میں اضافے کی رفتار کچھ سست ہوئی ہے تاہم مجموعی رجحان ظاہر کرتا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی منڈی ابتدائی تیز رفتار نمو کے مرحلے سے نکل کر اب زیادہ مستحکم ترقی کی جانب بڑھ رہی ہے۔
جنوبی افریقہ کی منڈی کی صورتحال قدرے مختلف رہی۔ رپورٹ کے مطابق پانچوں ممالک میں مجموعی صارف طلب میں چینی برانڈز کا سب سے بڑا حصہ 7.31 فیصد رہا تاہم الیکٹرک گاڑیوں کا حصہ صرف 0.3 فیصد تھا جبکہ صارفین کی زیادہ توجہ اب بھی پٹرول اور ہائبرڈ سپورٹس یوٹیلیٹی گاڑیوں (ایس یو ویز) پر مرکوز ہے۔
آٹو ٹریڈر ساؤتھ افریقہ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر جارج مینی نے کہا کہ ملک کی نسبتاً چھوٹی الیکٹرک گاڑیوں کی منڈی میں بھی صارفین کی دلچسپی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ الیکٹرک گاڑیوں سے متعلق صارفین کی دلچسپی میں 154.6 فیصد اضافہ اس بات کا ثبوت ہے کہ جنوبی افریقہ میں الیکٹرک ٹرانسپورٹ کی طرف رجحان تیزی سے فروغ پا رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ چینی گاڑی ساز کمپنیاں ایسی گاڑیاں متعارف کرا رہی ہیں جو مقامی صارفین کی ضروریات جیسے مناسب قیمت، جدید ٹیکنالوجی اور عملی افادیت کو بہتر انداز میں پورا کرتی ہیں جس سے اس تبدیلی کو مزید تقویت مل رہی ہے۔


