ہوماہم ترینامریکی دباؤ کے باوجود ایران کی معیشت مستحکم کیوں؟

امریکی دباؤ کے باوجود ایران کی معیشت مستحکم کیوں؟

تہران (لارڈ میڈیا): امریکا کی جانب سے سخت اقتصادی پابندیوں اور عسکری دباؤ کے باوجود ایران کی معیشت مکمل طور پر تباہ نہیں ہوئی۔ ایران نے پابندیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے ‘مزاحمتی معیشت’ کی حکمت عملی اپنائی ہے، جس کے تحت غیر ملکی مصنوعات پر انحصار کم کر کے مقامی پیداوار کو فروغ دیا گیا۔

ایران نے روایتی بین الاقوامی بینکنگ نظام سے کٹ جانے کے بعد ایک متوازی ‘شیڈو اکانومی’ قائم کی ہے۔ اس نظام کے تحت ایران نے غیر رسمی تجارتی نیٹ ورکس اور خفیہ طریقے سے توانائی کی برآمدات کا نظام قائم کیا، جس سے پابندیوں کے اثرات زائل ہوئے۔

تہران یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر حسین موسوی کے مطابق ایران کی 80 فیصد بنیادی غذائی ضروریات مقامی طور پر تیار ہوتی ہیں، جس کی وجہ سے بیرونی دنیا سے رابطہ منقطع ہونے پر بھی عوام کو غذائی قحط کا سامنا نہیں ہوتا۔

ایران نے خام تیل کی فروخت کے لیے نجی کمپنیوں، غیر ملکی کرنسی ڈیلرز اور ثالثوں کے ذریعے تجارت کی، جس سے زر مبادلہ کا بہاؤ برقرار رہا۔ چین جیسے خریداروں کو رعایتی نرخوں پر تیل فروخت کر کے ایران نے اپنی معیشت کو مستحکم رکھا۔

ایرانی معیشت کو جغرافیائی نوعیت کا بھی فائدہ ملا ہے، جس نے اسے پابندیوں کے باوجود تجارت جاری رکھنے میں مدد دی۔ پاکستان، عراق اور ترکیہ کے ساتھ غیر رسمی تجارتی راستے بھی اس میں شامل ہیں۔

تاہم ایرانی عوام کو شدید مہنگائی اور بلیک مارکیٹ کی صورت میں مشکلات کا سامنا ہے۔ عالمی بینک کے ماہر پال کرسچنسن کے مطابق ایران کی معیشت سخت دباؤ میں ہے، جہاں عام شہری کو زندگی کے معیار میں کمی کا سامنا ہے۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں