تہران (لارڈ میڈیا): دنیا کی سب سے بڑی جھیل بحیرہ قزوین، جسے کیسپین سی بھی کہا جاتا ہے، ایران اور یوکرین کی جنگوں کا نیا محاذ بن چکی ہے۔ یوکرین کے حالیہ ڈرون حملوں نے اس خطے میں کشیدگی کو بڑھا دیا ہے۔
یوکرین نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے ڈرونز نے بحیرہ قزوین میں عسکری سامان لے جانے والے دو روسی جہازوں کو نشانہ بنایا ہے، جو ایران سے روس جا رہے تھے۔ یوکرین کے صدر ولودی میر زیلنسکی نے کہا کہ یہ جہاز ایران سے روس کو عسکری سامان منتقل کر رہے تھے۔
ایران نے اس حملے پر شدید موقف اپنایا ہے اور کہا ہے کہ ان کا تجارتی جہاز، جو لوہا لے جا رہا تھا، حملے کی زد میں آیا، جس سے ایک ایرانی اہلکار جاں بحق اور تین زخمی ہوئے۔ ایرانی وزارتِ خارجہ نے یوکرین کی اس کارروائی پر سخت احتجاج کیا ہے۔
بحیرہ قزوین کی اہمیت خلیج فارس میں ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کے بعد بڑھ گئی ہے۔ ایران اور روس کے درمیان اس راستے سے گندم، تیل، گیس اور عسکری تعاون ہوتا ہے۔
امریکی حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ایران روس کو بیلسٹک میزائل فراہم کر رہا ہے، جو یوکرین کے خلاف استعمال ہو سکتے ہیں۔ یوکرین کے لیے یہ حملہ ان کے ڈرونز کی طویل فاصلے تک مار کرنے کی صلاحیت کا مظاہرہ ہے۔


