نئی دہلی (لارڈ میڈیا): کاکروچ جنتا پارٹی کے رہنماؤں کی جانب سے وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کے بعد جشن منانے پر تنازع کھڑا ہو گیا ہے۔ سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز میں پارٹی رہنماؤں کو جشن مناتے ہوئے دیکھا گیا ہے، جبکہ احتجاجی کارکنوں کو نظر انداز کرنے کے الزامات لگائے جا رہے ہیں۔
سیاسی مبصر میگھ ناد ایس نے انسٹاگرام پر ایک وائرل ویڈیو پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ پارٹی کی قیادت جشن میں مصروف تھی جبکہ کئی طلبہ اور رضاکار جنتر منتر پر بغیر خوراک و رہائش کے پھنسے رہے۔ میگھ ناد نے بتایا کہ انہوں نے اور دیگر افراد نے اپنی جیب سے مظاہرین کی مدد کی۔
پارٹی کے ترجمان سورَو داس نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ جشن کا مقصد رضاکاروں کا شکریہ ادا کرنا تھا، نہ کہ کسی فائیو اسٹار ہوٹل میں پارٹی کرنا۔ انہوں نے کہا کہ وائرل ویڈیوز کو غلط تناظر میں پیش کیا جا رہا ہے۔
معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے بھی اس تنازع پر کہا کہ کامیابی کے بعد عاجزی، وقار اور ذمہ داری کے ساتھ جشن منانا ضروری ہے۔ وانگچک اس تحریک کی نمایاں شخصیات میں شامل تھے اور جنتر منتر پر بھوک ہڑتال بھی کی تھی۔
سوشل میڈیا پر کئی ناقدین نے سوال اٹھایا کہ اس تحریک کا مقصد نیٹ-یو جی پیپر لیک اور متاثرہ طلبہ کی حمایت تھا، ایسے میں جشن کی ویڈیوز نے مایوسی پیدا کی۔ کچھ مظاہرین اب بھی قانونی کارروائیوں کا سامنا کر رہے ہیں۔
کاکروچ جنتا پارٹی نے نیٹ-یو جی پیپر لیک کے خلاف مہم کا آغاز سوشل میڈیا پر کیا تھا، جو بعد ازاں ملک بھر میں مظاہروں تک پھیل گئی۔ وزیر تعلیم کے استعفے کے بعد قیادت کے رویے پر نئی بحث شروع ہوگئی ہے۔


