واشنگٹن (شِنہوا) امریکی وزارت دفاع کی جانب سے جاری کئے گئے فوجی ہلاکتوں کے تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق جولائی میں ایران کے ساتھ دوبارہ جھڑپیں شروع ہونے کے بعد سے اب تک 4 امریکی فوجی اہلکار ہلاک اور 207 زخمی ہو چکے ہیں۔
پینٹاگون کے ’دفاعی ہلاکتوں کے تجزیے کے نظام‘ کے مطابق 25 جولائی تک ایران کے خلاف امریکی فوجی آپریشن ’ایپک فیوری‘ کے نتیجے میں کل 14 امریکی فوجی اہلکار ہلاک اور 417 زخمی ہوئے تھے۔
ڈیٹا بیس میں حال ہی میں ’’اوورسیز آپریشنز‘‘ کے نام سے نشان دہی کے لئے ایک نیا زمرہ شامل کیا گیا ہے جس میں 7 جولائی کے بعد سے ہونے والے امریکی فوجی نقصان کے اعدادوشمار الگ جمع کئے گئے ہیں اور 4 ہلاکتوں اور 207 زخمیوں کا اندراج شامل ہے۔ تاہم اس نئے زمرے میں صرف ہلاک شدگان کے نام شامل ہیں لیکن ہلاکتوں کا وقت، مقام یا وجہ جیسی مخصوص تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
اگرچہ تمام چاروں ہلاک شدگان کی تصدیق ہو چکی ہے کہ وہ امریکہ-ایران کشیدگی کے اس نئے دور میں مارے گئے لیکن امریکی وزارت دفاع نے تاحال اس بات کی تصدیق نہیں کی کہ آیا تمام زخمی اہلکاروں کا تعلق بھی اسی امریکہ-ایران کشیدگی سے ہے یا نہیں۔
امریکی قانون کے تحت صدر عام طور پر کانگریس کی منظوری کے بغیر امریکی افواج کو 60 دن سے زیادہ جنگی کارروائیوں میں شامل نہیں کر سکتا۔ میڈیا اطلاعات کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے 10 جولائی کو کانگریس کو ایک خط بھیجا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ 7 جولائی کو آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تین تجارتی جہازوں پر ایران کے حملے نے گزشتہ جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے۔ اس بنیاد پر وائٹ ہاؤس نے 7 جولائی کو ایران کے ساتھ جنگ کے نئے مرحلے کی تاریخ قرار دیا تھا۔


