بیجنگ (شِنہوا) چین آئندہ پانچ برسوں کے دوران آٹزم کے شکار افراد کی معاونت میں مزید وسعت لائے گا۔ اس سلسلے میں بچوں کے لئے ابتدائی تشخیص اور بروقت مداخلت کی خدمات کو فروغ دیا جائے گا، جبکہ خصوصی تعلیمی پروگراموں کی دستیابی بھی بڑھائی جائے گی۔
چائنہ ڈس ایبلڈ پرسنز فیڈریشن کے ایگزیکٹو ڈائریکٹرز بورڈ کے چیئرمین ژو چھانگ کوئی نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ یہ اقدامات 15ویں پانچ سالہ منصوبے (2026 تا 2030) کے دوران معذور افراد کے لئے خدمات بہتر بنانے کی وسیع حکمت عملی کا حصہ ہیں۔ اس منصوبے کے تحت آٹزم کے شکار افراد کے لئے پوری زندگی پر محیط معاونتی نظام متعارف کرایا جائے گا، جس میں ابتدائی تشخیص، مناسب بحالی اور تعلیم شامل ہوگی۔
ژو نے بتایا کہ اس مقصد کے لئے چین 6 سال تک کے بچوں کے لئے آٹزم کی معیاری سکریننگ اور بروقت مداخلت کی خدمات فراہم کرے گا، ہر شہر کی سطح کے انتظامی علاقے میں آٹزم کے شکار بچوں کی بحالی کے لئے ضروری سہولتیں یقینی بنائے گا، جبکہ صوبائی دارالحکومتوں اور بڑے شہروں میں آٹزم کے شکار بچوں کے لئے مخصوص خصوصی تعلیمی سکولوں کے قیام کی بھی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔
چین نے رواں ماہ کے آغاز میں 15ویں پانچ سالہ منصوبے کے دوران معذور افراد کے تحفظ اور ترقی کا قومی منصوبہ جاری کیا تھا، جس میں آٹزم کے شکار افراد کے لئے پوری زندگی پر محیط معاونت کو ایک خصوصی قومی اقدام قرار دیا گیا ہے۔
آٹزم ایک اعصابی و دماغی نشوونما سے متعلق عارضہ ہے، جس میں سماجی روابط قائم کرنے میں دشواری، محدود دلچسپی اور ایک ہی طرز کے رویوں کی بار بار تکرار نمایاں علامات ہوتی ہیں۔
یہ عارضہ اب بھی دنیا بھر کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے کیونکہ اس کی وجوہات مکمل طور پر معلوم نہیں ہو سکیں اور اس کے لئے کوئی ایسی دوا بھی دستیاب نہیں جو وسیع پیمانے پر موثر ثابت ہوئی ہو۔ موجودہ شواہد کے مطابق بحالی پر مبنی مداخلت ہی اس کا موثر علاج سمجھی جاتی ہے، جبکہ چھ سال سے کم عمر بچوں میں ابتدائی مداخلت کو انتہائی اہم قرار دیا جاتا ہے کیونکہ اس عمر میں دماغ زیادہ لچکدار ہوتا ہے اور نشوونما میں بہتری کے امکانات بھی زیادہ ہوتے ہیں۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس وقت چین میں آٹزم کے شکار افراد کی تعداد ایک کروڑ 30 لاکھ سے زیادہ ہے اور یہ ملک میں ذہنی معذوری کی سب سے بڑی وجہ ہے۔
چین نے مالی مشکلات سے دوچار خاندانوں کے آٹزم کے شکار بچوں کے لئے پری سکول سے لے کر ہائی سکول تک مفت تعلیم فراہم کی ہے۔ رواں سال اپریل تک ملک بھر میں خصوصی تعلیم میں اصلاحات کے لئے 61 پائلٹ زونز قائم کئے جا چکے ہیں، جبکہ آٹزم کے شکار بچوں کے لئے مخصوص 17 خصوصی تعلیمی سکول بھی قائم کئے گئے ہیں۔


