ہومتازہ ترینبین الاقوامی طلبہ کا چین کے صحرا کو سرسبز بنانے کی کامیاب...

بین الاقوامی طلبہ کا چین کے صحرا کو سرسبز بنانے کی کامیاب کوششوں کا مشاہدہ

ین چھوان (شِنہوا) چین کے شمال مغربی ننگشیا ہوئی خودمختار علاقے میں واقع تینگر صحرا کے کنارے شدید گرمی میں بین الاقوامی طلبہ کا ایک گروپ ریت پر گھٹنوں کے بل بیٹھ کر گندم کے خشک تنکوں کے گٹھے ریت میں اس انداز سے جما رہا تھا کہ شطرنج کے خانوں جیسا جال بن جائے۔

یہ سادہ سا جالی نما طریقہ، جو 70 سال سے زائد عرصہ قبل ژونگ وے شہر میں تیار کیا گیا تھا، آج چین میں صحرا کو پھیلنے سے روکنے کے موثر ترین طریقوں میں شمار ہوتا ہے۔ ریت کو اپنی جگہ پر قائم رکھنے اور ہوا سے ہونے والے کٹاؤ کو کم کرنے والا یہ کم لاگت طریقہ بنجر زمین کے وسیع رقبے کو قابل استعمال اور مستحکم زمین میں تبدیل کرنے میں اہم کردار ادا کر چکا ہے۔

یمن، فجی، مالی اور بھارت سمیت 19 ممالک سے تعلق رکھنے والے یہ طلبہ 2026 کے "چین کا مشاہدہ کریں ” ثقافتی تبادلہ پروگرام کے تحت اس ماہ ننگشیا آئے، جہاں انہوں نے صحرا کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے چین کی کئی دہائیوں پر محیط کوششوں کا قریب سے مشاہدہ کیا۔

تینگر صحرا کے جنوب مشرقی کنارے پر واقع ژونگ وے کبھی چین کے ان علاقوں میں شامل تھا جو ریت کے پھیلاؤ سے سب سے زیادہ متاثر تھے۔ 1950 کی دہائی کے آغاز میں ریت کے ٹیلے شہر سے صرف چند کلومیٹر کے فاصلے تک پہنچ گئے تھے، جس سے زرعی زمینیں ریت تلے دب رہی تھیں اور دریائے زرد اور باؤتو۔لان ژو ریلوے کو بھی خطرہ لاحق ہو گیا تھا۔ یہ ریلوے صحرا سے گزرنے والی چین کی پہلی ریلوے لائن تھی ۔

ریلوے لائن کو ریت سے محفوظ رکھنے کے لئے مقامی انجینئروں اور کارکنوں نے تنکوں سے شطرنج نما جال بنانے کا طریقہ متعارف کرایا جو بعد میں چین ماحولیاتی بحالی کے کامیاب منصوبوں کی بنیاد بن گیا۔

گزشتہ سات دہائیوں کے دوران کارکن ننگشیا کے صحرا میں 4 لاکھ 30 ہزار مو (تقریباً 28ہزار 700ہیکٹر) سے زائد رقبے پر تنکوں کے جال نما ڈھانچے بچھا چکے ہیں جبکہ خشک سالی برداشت کرنے والی 10 کروڑ سے زیادہ جھاڑیاں بھی لگائی جا چکی ہیں۔ گزشتہ سال علاقے میں تینگر صحرا کے کنارے ریت روکنے والی 153 کلومیٹر طویل حفاظتی پٹی مکمل کی گئی جس سے صحرا کے مزید پھیلاؤ کے خلاف دفاعی اقدامات مزید مضبوط ہو گئے۔


چین کے شمال مغربی ننگشیا ہوئی خودمختار علاقے کے تینگر صحرا میں کارکن ریت کو روکنے کے لئے تنکوں کا شطرنج نما جال بچھا رہے ہیں۔ (شِنہوا)

فجی سے تعلق رکھنے والی 25 سالہ طالبہ لیڈوا مشیل ایولین نے پہلی بار اس طریقے کو دیکھنے کے بعد کہا کہ ریت کو مستحکم کرنے کے لئے کم قیمت گندم کے تنکوں کا استعمال انتہائی ذہانت اور موثر منصوبہ بندی کی مثال ہے۔

طلبہ نے ننگشیا ہان نان فوٹو وولٹک پاور کمپنی لمیٹڈ کے شمسی توانائی کے بجلی گھر کا بھی دورہ کیا، جہاں 60 ہزار سے زائد سولر پینلز ریت کے وسیع ٹیلوں پر نصب ہیں۔ ان پینلز کے نیچے اب گھاس اور جھاڑیاں اگ چکی ہیں جبکہ یہ علاقہ پہلے صرف بنجر ریت پر مشتمل تھا۔

کمپنی کے انجینئر وانگ لے نے بتایا کہ شمسی توانائی کے پینلز سایہ فراہم کرتے ہیں، ہوا کی رفتار کم کرتے ہیں اور مٹی میں نمی برقرار رکھنے میں مدد دیتے ہیں، جس سے پودوں کی نشوونما کے لئے زیادہ سازگار ماحول پیدا ہوتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ دن اور رات کے درجہ حرارت میں بڑا فرق ہونے کے باعث پینلز پر نمی جم جاتی ہے، جس کے قطرے نیچے مٹی تک پہنچ کر پودوں کے لئے اضافی پانی فراہم کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب پودوں کی افزائش بہت زیادہ ہو جاتی ہے تو قریبی چرواہے اپنی بھیڑوں کو سولر فارم میں چرانے لے آتے ہیں۔

یمن سے تعلق رکھنے والے پی ایچ ڈی کے طالب علم القیس محمد عبد الکریم محمد محسن نے کہا کہ یہ منصوبہ اس بات کی بہترین مثال ہے کہ قابل تجدید توانائی اور ماحولیات کی بحالی ایک دوسرے کو مضبوط بنا سکتے ہیں۔

کئی دہائیوں پر محیط بحالی کی کوششوں کے بعد ژونگ وے میں تقریباً 15 لاکھ مو(تقریباً ایک لاکھ ہیکٹر) صحرا کو دوبارہ قابل استعمال زمین میں تبدیل کر دیا گیا ہے جبکہ تینگر صحرا کا کنارہ تقریباً 25 کلومیٹر پیچھے دھکیل دیا گیا ہے۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں