نئی دہلی (لارڈ میڈیا) : بھارت میں پولیس کی جانب سے طلبہ کو گرفتار کرنے کے دوران پولیس وین کو روکنے والی لڑکی ریہا ایّر نے کہا ہے کہ پولیس کو یقین تھا کہ وہ طاقت کے ذریعے طلبہ کو خاموش کر سکتے ہیں۔ ریہا نے بتایا کہ پولیس کی اس سوچ نے اسے غصہ دلایا اور وہ بغیر کسی منصوبہ بندی کے پولیس وین کے سامنے کھڑی ہوگئی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ریہا ایّر کے پولیس وین روکنے پر عوام کا ہجوم جمع ہوگیا اور پولیس کو وہاں سے جانے نہیں دیا۔ دوسری جانب بھارتی نوجوانوں نے حکومت اور حامی میڈیا کی پاکستان مخالف پروپیگنڈا کو مسترد کرتے ہوئے حکومت پر طنزیہ شاعری کی مدد سے تنقید کی۔
مزید برآں، طلبہ اور حکومت کے درمیان مذاکرات میں کاکروچ جنتا پارٹی نے وزیر تعلیم دھرمنیدر پردھان کے استعفیٰ کے مطالبے سے پیچھے ہٹنے سے انکار کر دیا ہے۔ مودی سرکار نے جواب کے لیے آج دوپہر تک کا وقت مانگا ہے۔
طلبہ کا کہنا ہے کہ اگر وزیر تعلیم نے استعفیٰ نہ دیا تو احتجاج ملک بھر میں پھیلا دیا جائے گا۔ ترجمان کاکروچ جنتا پارٹی نے بتایا کہ حکومت 20 جولائی کے احتجاج کے بعد طلبہ کے خلاف مقدمات واپس لینے پر تیار ہوگئی ہے اور مطالبات پر جواب دینے کے لیے کل دوپہر تک کا وقت مانگا ہے۔


