برلن (لارڈ میڈیا): جرمنی نے بحیرۂ احمر میں موجود اپنے دو جنگی بحری جہاز واپس بلانے کا اعلان کیا ہے۔ جرمن وزارت دفاع کے مطابق حالیہ امریکا اور ایران کے درمیان سفارتی پیش رفت کے بعد آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں صاف کرنے کی فوری ضرورت نہیں رہی۔
جرمن وزارت دفاع نے کہا کہ واپس بلائے جانے والے جہازوں میں ‘فلڈا’ مائن ہنٹر اور ‘موزیل’ سپورٹ شپ شامل ہیں، جو جون میں نہر سویز کے راستے بحیرۂ احمر پہنچے تھے اور جبوتی میں تعینات تھے۔
ان جہازوں کے ساتھ 140 اہلکار بھی موجود تھے، جن میں بارودی سرنگیں صاف کرنے والے غوطہ خور اور خودکار زیر آب نظام کے ماہرین شامل تھے۔ ان جہازوں کو ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھانے کے خدشے کے پیش نظر تیار رکھا گیا تھا۔
جرمن وزیر دفاع بورس پسٹوریئس نے کہا کہ فوجی مشن کا انحصار سیاسی اور سفارتی صورتحال پر ہوگا۔ یہ بحری مشن عالمی بحری راستوں پر آزادانہ جہاز رانی کے تحفظ کی کوششوں کا حصہ تھا۔
اگرچہ دونوں جہاز واپس بلائے جا رہے ہیں، جرمنی بدستور یورپی یونین کے آپریشن اسپائیڈیز میں شامل رہے گا، جس کا مقصد بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں کو یمن کے حوثی گروپ کے حملوں سے تحفظ فراہم کرنا ہے۔
جرمنی نے اعلان کیا ہے کہ وہ لبنان کے ساحل پر اقوام متحدہ کے امن مشن یونیفل میں اپنی بحری شمولیت 2026 کے اختتام تک برقرار رکھے گا۔ جرمن حکام نے خبردار کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی سکیورٹی صورتحال غیر یقینی ہے اور امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی بڑھنے کی صورت میں آبنائے ہرمز متاثر ہو سکتی ہے۔


