ہومتازہ ترینسونم وانگچک نے 26 روزہ بھوک ہڑتال ختم کر دی

سونم وانگچک نے 26 روزہ بھوک ہڑتال ختم کر دی

نئی دہلی (لارڈ میڈیا): بھارت کے معروف سماجی کارکن اور ماہرِ تعلیم سونم وانگچک نے تعلیمی اصلاحات کا مطالبہ کرنے والے نوجوان مظاہرین کی حمایت میں جاری 26 روزہ بھوک ہڑتال ختم کر دی ہے۔ وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اعلان کیا کہ انہوں نے مختلف شرائط پر مذاکرات کے بعد اور ممکنہ تشدد سے بچنے کے لیے بھوک ہڑتال ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

59 سالہ وانگچک کاکروچ جنتا پارٹی کے مظاہرین کی حمایت میں تھے، جو NEET کا پرچہ لیک ہونے کے بعد تعلیمی اصلاحات اور بھارتی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ وانگچک نے ہڑتال کے دوران بتایا کہ ان کا وزن 11 کلوگرام کم ہو چکا ہے، لیکن وہ "اب بھی زندہ ہیں”۔

بھارتی میڈیا کے مطابق، حکومت کی یقین دہانی کے بعد کہ جنتر منتر پر احتجاج کرنے والے مظاہرین کے خلاف قانونی کارروائی نہیں کی جائے گی، وانگچک نے بھوک ہڑتال ختم کر دی۔ اس دوران بھارت کے وزرائے مملکت اور وزیر صحت نے بھی اسپتال میں ان سے ملاقات کی۔

وانگچک کے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دیپکے نے کہا کہ ہمیں خوشی ہے کہ سونم سر نے اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی ہے، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ کاکروچ جنتا پارٹی کا احتجاج وزیر تعلیم کے استعفیٰ تک جاری رہے گا۔

نئی دہلی میں بڑے پیمانے پر مظاہرے بدستور جاری ہیں اور پیر کے روز پارلیمنٹ کی جانب مارچ کرنے والے مظاہرین پر پولیس کے کریک ڈاؤن کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے تھے۔ کاکروچ جنتا پارٹی اس وقت بھارت کی نمایاں نوجوان تحریکوں میں شمار کی جا رہی ہے اور اسے وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت کے خلاف عوامی اختلاف کی بڑی علامت سمجھا جا رہا ہے۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں