حیدرآباد (لارڈ میڈیا): حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔ قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے بتایا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین اور ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا۔ وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے) 99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔ ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہو چکی ہے، 151 ملزمان میں سے 14 گرفتار ہو چکے ہیں جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں۔ ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں، سخت ایکشن لیا جائے۔ سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔ چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے۔ سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا۔ رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔ پاکستان پیپلزپارٹی کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے ہیں۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔


