ہومتازہ ترینسندھ ہائی کورٹ کا 800 ایکڑ سرکاری زمین کی جعلی الاٹمنٹ منسوخ...

سندھ ہائی کورٹ کا 800 ایکڑ سرکاری زمین کی جعلی الاٹمنٹ منسوخ کرنے کا فیصلہ

کراچی (لارڈ میڈیا): سندھ ہائی کورٹ نے کراچی کی 800 ایکڑ قیمتی سرکاری زمین کی غیر قانونی الاٹمنٹ منسوخ کرنے کے نیب کے اقدام کو برقرار رکھا ہے۔ عدالت نے قبضہ گروپوں کی درخواستیں مسترد کرتے ہوئے کہا کہ مذکورہ زمین کی الاٹمنٹ ابتدا ہی سے غیر قانونی تھی۔

عدالتی فیصلے کے مطابق، نیب کی جانب سے زمین واگزار کرانے کی کارروائی قانونی اور درست ہے۔ عدالت نے درخواست گزاروں کے اس مؤقف کو بھی رد کردیا کہ انہیں سنے بغیر کارروائی کی گئی۔

یہ کیس کراچی کے بڑے لینڈ اسکینڈلز میں شمار ہوتا ہے، جہاں 1990 کی دہائی میں 800 ایکڑ سرکاری زمین مبینہ طور پر کرپٹ اہلکاروں کی ملی بھگت سے جعلی دستاویزات کے ذریعے منتقل کی گئی۔ بعد ازاں یہ اراضی بھاری منافع پر فروخت کی جاتی رہی۔

نیب کے مطابق چیئرمین نیب لیفٹیننٹ جنرل (ر) نذیر احمد بٹ اور ڈپٹی چیئرمین سہیل ناصر کی سربراہی میں سندھ بورڈ آف ریونیو کے تعاون سے جعلی ریکارڈ منسوخ کرکے اراضی دوبارہ سرکاری تحویل میں لی گئی۔

نیب کے ترجمان نے فیصلے کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ یہ اراضی عوامی مفاد، کراچی کے واٹر انفرا اسٹرکچر اور پارکوں کے لیے مختص تھی۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری زمین پر قبضہ کرنے والوں کے خلاف کارروائی جاری رہے گی۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں