واشنگٹن (لارڈ میڈیا): امریکی فوج نے ایران پر بارہویں رات مسلسل حملے کرتے ہوئے بحری صلاحیتوں، میزائل اور ڈرون ذخیرہ کرنے کی تنصیبات، ساحلی نگرانی کے مراکز اور فضائی دفاع کے اثاثوں کو نشانہ بنایا ہے۔ امریکی فوج کی مرکزی کمان سینٹکام نے بیان میں کہا ہے کہ ان حملوں سے ایران کی سویلین ملاحوں اور تجارتی جہازوں پر حملے کرنے کی صلاحیت کم ہوئی ہے۔
سینٹکام کے مطابق امریکی فوج نے اس ماہ خشکی پر موجود ایران کے درجنوں عسکری مقامات کو نشانہ بنایا ہے جبکہ سمندر میں ایران کے خلاف ناکہ بندی کا دوبارہ آغاز کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ نو تجارتی جہازوں کا رخ موڑا گیا اور ایک جہاز کو ناکارہ بنایا گیا تاکہ ایرانی بندرگاہوں میں داخل ہونے یا وہاں سے روانہ ہونے سے روکا جا سکے۔
سینٹکام نے مزید کہا کہ 50 ہزار سے زائد امریکی فوجی اہلکار پورے مشرقِ وسطیٰ میں تعینات ہیں اور اپنے فرائض کے لیے ہر وقت چوکس اور تیار ہیں۔ دوسری جانب ایرانی میڈیا کے مطابق سیرک اور بوشہر میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ اہواز شہر کے قریب بھی میزائل حملے کیے گئے۔ گورنر بوشہر کے مطابق امریکی فوج نے بوشہر نیوکلیئر پاور پلانٹ کے قریب بجلی گھر کو نشانہ بنایا۔


