نئی دہلی (لارڈ میڈیا): بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں تعلیمی نظام اور طلبا پر پولیس تشدد کے خلاف اپوزیشن جماعت کانگریس نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی رہائش گاہ کے باہر احتجاج کیا۔ پولیس نے مظاہرے کے دوران کانگریسی رہنماؤں راہول گاندھی اور پریانکا گاندھی کو گرفتار کر لیا تاہم کچھ دیر بعد رہا کر دیا۔ کانگریس نے وزیراعظم نریندر مودی، وزیر داخلہ امیت شاہ اور وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کیا ہے۔
یہ احتجاج کاکروچ جنتا پارٹی کی چھتری تلے طلبا کی تحریک کا نتیجہ ہے، جو ہزاروں نوجوانوں کے ساتھ میدان میں نکل آئے ہیں۔ مظاہرین حکومت مخالف نعرے لگاتے ہوئے پرانے تعلیمی نظام کو نامنظور کرتے ہیں اور مودی کے نظام سے مایوسی کا اظہار کر رہے ہیں۔
مودی حکومت کے ڈنڈے برسائے جانے اور پولیس کریک ڈاؤن کے باوجود یہ احتجاج مزید شدت اختیار کر رہا ہے۔ مظاہرین کے مطابق وہ اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔
کاکروچ جنتا پارٹی کے نام سے جانی جانے والی یہ تحریک موبائل فون اور ڈیجیٹل دنیا سے نکل کر اب سڑکوں پر پہنچ چکی ہے۔ یہ ڈیجیٹل دور کی نسل اپنے حقوق کے لیے کھل کر آواز اٹھاتی ہے اور مصلحت پسندی پر یقین نہیں رکھتی۔
ایسی روایتی نظام سے اکتاہٹ کی لہر جنوبی ایشیا کے دیگر ممالک میں بھی بڑی سیاسی تبدیلیاں لا چکی ہے۔ سری لنکا، بنگلہ دیش اور نیپال میں بھی ایسی ہی تحریکوں نے حکومتوں کا تختہ الٹ دیا ہے۔ اب بھارت میں بھی یہ احتجاج اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی بنتا جا رہا ہے۔


