ہومتازہ ترینایران جنگ سے امریکی پیٹرولیم ذخائر شدید متاثر

ایران جنگ سے امریکی پیٹرولیم ذخائر شدید متاثر

واشنگٹن (لارڈ میڈیا): امریکا سمیت دنیا کے بڑے تیل استعمال کرنے والے ممالک کے اسٹریٹجک ذخائر تیزی سے کم ہو رہے ہیں، جبکہ آبنائے ہرمز کی دوبارہ بندش نے عالمی تیل منڈی میں نئے بحران کا خدشہ پیدا کر دیا ہے۔

امریکی محکمہ توانائی کے مطابق امریکا کے اسٹریٹجک پیٹرولیم ریزرو میں خام تیل کی مقدار 316.5 ملین بیرل تک کم ہو گئی ہے، جو 1983 کے بعد کم ترین سطح سمجھی جا رہی ہے۔ رواں سال دوسری سہ ماہی کے دوران امریکا نے عالمی منڈی میں سپلائی برقرار رکھنے کے لیے تقریباً 172 ملین بیرل خام تیل اپنے ہنگامی ذخائر سے جاری کیا تھا۔

چین بھی ایران جنگ کے باعث اپنے ذخائر سے تیل استعمال کرنے پر مجبور ہے۔ چین کے اسٹریٹجک ذخائر میں کمی اور مشرق وسطیٰ کی محدود سپلائی نے چین کی خام تیل کی درآمدات کو 2018 کے بعد کم ترین سطح تک محدود کر دیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ سال کے آغاز میں ایران سے متعلق بحران کے باوجود عالمی منڈی سنبھلی رہی کیونکہ مختلف ممالک نے اپنے اسٹریٹجک ذخائر استعمال کیے تھے۔ تاہم اب عالمی ذخائر میں نمایاں کمی کے باعث تیل کی منڈی کے پاس قیمتوں کو قابو میں رکھنے کے لیے پہلے جیسے حفاظتی وسائل موجود نہیں رہے۔

خلیج فارس سے خام تیل لے جانے والے ٹینکرز کی آمدورفت کئی ماہ کی کم ترین سطح پر آگئی ہے، جس کے نتیجے میں عالمی منڈی میں سپلائی سے متعلق خدشات میں اضافہ ہوا ہے۔ ان خدشات کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 90 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے بھی خبردار کیا ہے کہ اگر عالمی ذخائر کو دوبارہ بحال نہ کیا گیا تو آئندہ کسی بھی بڑے جغرافیائی بحران کی صورت میں عالمی تیل منڈی پہلے سے کہیں زیادہ کمزور ہوگی، جس سے خام تیل، ایندھن اور توانائی کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں