کراچی (لارڈ میڈیا): وزیر خزانہ کے مشیر عدنان پاشا نے کہا ہے کہ مصنوعی ذہانت انشورنس سیکٹر میں انقلاب لا سکتی ہے۔ انہوں نے کراچی میں پہلی انٹرنیشنل انشورنس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ ملک کو معاشی استحکام کے علاوہ ترقی کی راہ پر بھی گامزن کرنا ہے۔
عدنان پاشا نے کہا کہ پاکستان ماحولیاتی تبدیلی سے متاثرہ ممالک میں شامل ہے، سندھ میں حالیہ سیلاب کے باعث 2000 سے زائد افراد جاں بحق ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں انشورنس کا شعبہ محدود ہے اور اس کے فروغ کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ عوامی آگاہی کی کمی اور ڈسٹری بیوشن کے مسائل ہیں۔
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کانفرنس میں کہا کہ انشورنس کی صنعت صوبہ سندھ کے سیلز ٹیکس دینے والے بڑی صنعتوں میں سے ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سندھ حکومت نے فصلوں کی انشورنس کو سیلز ٹیکس فری کردیا ہے اور تھرڈ پارٹی وہیکل انشورنس متعارف کرائی ہے۔
انشورنس ایسوسی ایشن کے چیئرمین شعیب جاوید حسن نے کہا کہ پاکستان میں انشورنس کی ترقی کے بہت مواقع موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انشورنس کا پھیلاؤ 0.9 فیصد ہے جبکہ خطے کے دیگر ممالک میں یہ 4 فیصد ہے۔
وزیر اعظم کے کوآرڈینیٹر برائے تجارت احسن افضل رانا نے کہا کہ حکومت معاشی لین دین کو ڈیجیٹائز کرنا چاہتی ہے اور چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروبار کو مالیاتی خدمات تک رسائی دینا چاہتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آبادی کا بڑا حصہ موبائل فون استعمال کرتا ہے جس سے مائیکرو انشورنس فراہم کی جا سکتی ہے۔


