پشاور (لارڈ میڈیا): خیبرپختونخوا اور آزاد کشمیر میں شدید بارشوں اور سیلابی ریلوں نے تباہی مچائی ہے، جس کے نتیجے میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران چھتیں گرنے اور سیلابی پانی میں بہہ جانے سے تین بچوں سمیت 8 افراد جاں بحق جبکہ متعدد زخمی ہو گئے ہیں۔ محکمہ موسمیات نے مزید بارشوں کی پیش گوئی کی ہے۔
مردان میں مکان کی چھت گرنے سے دو بچے ہلاک اور ان کی ماں اور بہن زخمی ہوئیں، جبکہ لنڈی کوتل میں سیلابی ریلے میں بہہ جانے والی گاڑی سے تین افراد کی لاشیں ملیں۔ وادی نیلم میں کلاؤڈ برسٹ کے باعث 25 دکانیں، ایک اسکول اور چھ مکانات تباہ ہو گئے ہیں۔
نوشہرہ کے علاقے اکوڑہ خٹک میں فلیش فلڈز کے باعث ریسکیو 1122 کی ٹیموں نے 12 افراد کو محفوظ مقام پر منتقل کیا۔ ایمرجنسی آفیسر ملک اشفاق حسین نے کارروائی کی نگرانی کی۔
ہزارہ ڈویژن میں بارشوں سے تین پل بہہ گئے اور اہم راستے بند ہو گئے۔ ایبٹ آباد میں شاہراہِ ریشم پانی جمع ہونے سے جھیل کا منظر پیش کر رہی ہے۔
نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے گلگت بلتستان اور خیبرپختونخوا کے لیے فلیش فلڈ کا الرٹ جاری کر دیا ہے۔ تربیلا ڈیم سے پانی کے اخراج کے بعد دریائے سندھ میں سطح بلند ہو گئی ہے۔
بلوچستان کے بیشتر علاقوں میں موسم شدید گرم رہا، تاہم قلات اور خضدار میں بارش کی پیش گوئی کی گئی ہے۔


