نئی دہلی (لارڈ میڈیا): بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں پیر کے روز پارلیمنٹ کی طرف مارچ کرنے والے کاکروچ جنتا پارٹی کے حامیوں کو روکنے کی کوشش میں پولیس نے لاٹھی چارج کیا۔ یہ مظاہرہ وزیراعظم نریندر مودی کے تیسرے دور اقتدار میں عوامی چیلنج مانا جا رہا ہے۔
کاکروچ تحریک نے سوشل میڈیا پر پہلے ہی کروڑوں افراد کی توجہ اپنی طرف مبذول کرائی تھی۔ پارلیمنٹ کے مون سون سیشن کے پہلے دن مظاہرین نے جنتر منتر پر جمع ہو کر بھوک ہڑتال کرنے والے کارکن سونم وانگ چک کی حمایت میں نعرے بازی کی۔ پولیس نے سونم کو اسپتال منتقل کیا تھا۔
پولیس اور پیراملٹری فورسز کی بھاری نفری نے مظاہرین کو پارلیمنٹ کی طرف بڑھنے سے روکا۔ دہلی کے ڈپٹی کمشنر آف پولیس سچن شرما نے کہا کہ احتجاج کی جگہ پر مزید گنجائش ختم ہو چکی ہے۔
مظاہرین نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اور تعلیم کے وزیر دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کیا۔ کاکروچ جنتا پارٹی کے ترجمان سورو داس نے کہا کہ انتظامیہ حکومت کے ساتھ مذاکرات شروع کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
تحریک کا آغاز مئی میں میڈیکل کے قومی داخلہ ٹیسٹ کے پرچے لیک ہونے کے بعد ہوا تھا۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ وہ کرپشن کا خاتمہ چاہتے ہیں اور امتحانی پرچے لیک ہونے کی روک تھام چاہتے ہیں۔
سونم وانگ چک نے اسپتال سے اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کی شرائط بھی واضح کی ہیں، جن میں حکومت کی جانب سے پیپر لیکس کی ذمہ داری قبول کرنا شامل ہے۔


