لاہور (لارڈ میڈیا): چار پاکستانی موٹرسائیکل سواروں نے آرکٹک سرکل پہنچ کر تاریخ رقم کر دی، وہ ایسا کرنے والے پہلے پاکستانی بائیکرز بن گئے ہیں۔ اس مہم کی قیادت معروف ایڈونچر ٹریولر شیراز سمیع نے کی، جنہوں نے اپنے 19 سالہ بیٹے اور دو دیگر ساتھیوں کے ہمراہ ہزاروں کلومیٹر کا سفر طے کیا۔ یہ ٹیم کئی ممالک سے گزرتے ہوئے ناروے کے نورڈ کیپ پہنچی، جو یورپ کا شمالی ترین مقام تصور کیا جاتا ہے۔
شیراز سمیع نے سوشل میڈیا پر اپنی کامیابی شیئر کرتے ہوئے بتایا کہ سفر کے دوران انہوں نے ریگستانوں، بلند پہاڑوں، بین الاقوامی سرحدوں اور دنیا کی چند مشکل ترین سڑکوں کو عبور کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہماری معلومات کے مطابق، ہم پاکستان رجسٹرڈ موٹرسائیکلوں پر آرکٹک سرکل پہنچنے والے پہلے پاکستانی رائیڈرز ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ سفر صرف منزل تک پہنچنے کا نام نہیں تھا بلکہ ہمت، عزم اور ایمان کے ذریعے انسان کو اس کی توقعات سے کہیں آگے لے جا سکتا ہے۔ شیراز سمیع نے اس کامیابی کو پاکستان کے لیے باعثِ فخر قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی ٹیم نے پاکستان کا پرچم دنیا کے شمالی ترین مقام تک پہنچایا۔


