تہران (لارڈ میڈیا): امریکا نے مسلسل آٹھویں رات ایران پر بمباری کی، جس کے جواب میں ایران نے خلیجی ممالک میں میزائل اور ڈرون حملے کیے ہیں۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے اعلان کیا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایت پر ایران کے خلاف فضائی حملے کیے گئے، جن میں ایرانی فوج کی ساحلی نگرانی، دفاعی تنصیبات اور بحری صلاحیتوں کو نشانہ بنایا گیا۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق اردن میں ایرانی حملے میں دو امریکی فوجی ہلاک جبکہ ایک لاپتہ ہو گیا۔ ایران کی نیوز ایجنسی ‘مہر’ نے بتایا کہ جنوبی ایران میں امریکی حملوں میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
اس جنگ کے آغاز سے اب تک ہلاک ہونے والے امریکی فوجیوں کی تعداد 16 ہو گئی ہے۔ امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے کہا کہ ان کی قربانی امریکا کے عزم کو مزید مضبوط کرتی ہے۔
ایران نے سعودی عرب، اردن اور دیگر خلیجی اتحادیوں کو بھی نشانہ بنایا ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ نے شہریوں کے لیے ٹریول الرٹ جاری کر دیا ہے۔ ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے امریکا کو وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ امریکا کو بھاری قیمت چکانی پڑے گی۔
ایرانی وزارتِ خارجہ نے امریکا پر الزام عائد کیا کہ وہ آبنائے ہرمز پر کنٹرول حاصل کرنا چاہتا ہے۔ دونوں ممالک ایک دوسرے کے جہازوں کو نشانہ بنا رہے ہیں اور امریکا نے بحری ناکہ بندی کر رکھی ہے۔
یورپی یونین اور خلیجی ممالک نے ایران سے اپیل کی کہ وہ بحری جہاز رانی میں مداخلت روک دے اور سمندری راستے کو کھلا رکھے۔ ایرانی وزارتِ صحت کے مطابق امریکی حملوں سے ایران میں 50 افراد ہلاک اور 500 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔


