ہومتازہ ترینشیخ حسینہ کی واپسی کا خیرمقدم، سزائے موت پر نظرثانی ہوسکتی ہے

شیخ حسینہ کی واپسی کا خیرمقدم، سزائے موت پر نظرثانی ہوسکتی ہے

ڈھاکہ (لارڈ میڈیا): بنگلہ دیش حکومت نے سابق وزیرِ اعظم شیخ حسینہ واجد کی وطن واپسی کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں قانون کا سامنا کرنا ہوگا۔ عدالت سزائے موت کے فیصلے پر نظرثانی یا انہیں بری بھی کر سکتی ہے۔ شیخ حسینہ کے قریبی ذرائع کے مطابق، وہ اپنی جماعت عوامی لیگ کو فعال کرنے کے لیے رواں سال کے اختتام تک ڈھاکا واپس آنے کی تیاری کر رہی ہیں۔

78 سالہ شیخ حسینہ 2024ء میں حکومت مخالف احتجاج کے نتیجے میں بنگلہ دیش چھوڑ کر بھارت چلی گئی تھیں۔ بنگلہ دیشی وزیرِ اعظم کے مشیر زاہد الرحمٰن نے کہا ہے کہ شیخ حسینہ کو دنیا کے بہترین وکلاء کے ساتھ اپنے دفاع کے لیے آنا چاہیے تاکہ وہ 2024ء کے احتجاج کے دوران مبینہ جرائم کے الزامات کا سامنا کر سکیں۔

زاہد الرحمٰن نے کہا کہ انٹرنیشنل کرائمز ٹربیونل میں کارروائی شفاف ہوگی اور عدالتی کارروائی کی ویڈیو کوریج ممکن ہوگی۔ عدالت شیخ حسینہ کے خلاف فیصلے پر نظرثانی یا انہیں بری بھی کر سکتی ہے۔ بنگلہ دیشی حکومت کسی دباؤ کا شکار نہیں۔

شیخ حسینہ کو 2024ء کے احتجاج کے دوران مظاہرین کے خلاف حکومتی کریک ڈاؤن کے تناظر میں سزائے موت سنائی گئی تھی۔ انہوں نے ان الزامات کو سیاسی انتقام قرار دیا تھا۔ بنگلہ دیش بھارت سے ان کی حوالگی کا مطالبہ کرتا رہا ہے۔

بھارتی وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے شیخ حسینہ کی واپسی پر محتاط ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ حوالگی سے متعلق درخواست قانونی نوعیت کا معاملہ ہے اور قانون کے مطابق نمٹا جائے گا۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں