دوحہ (لارڈ میڈیا): ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی سابق امیر قطر شیخ حمد بن خلیفہ آل ثانی کی تعزیتی تقریب میں شرکت کے لیے دوحہ روانہ ہو گئے ہیں۔ اس موقع پر وہ قطری حکام سے بھی ملاقات کریں گے اور ایرانی حکومت و عوام کی جانب سے تعزیت کا اظہار کریں گے۔
شیخ حمد بن خلیفہ الثانی 1995 میں قطر کے امیر بنے اور 2013 تک اقتدار میں رہے۔ ان کے دور میں قطر نے معاشی، سماجی اور سفارتی میدان میں نمایاں ترقی کی۔ قدرتی گیس کے ذخائر کا مؤثر استعمال کرتے ہوئے انہوں نے قطر کو دنیا کے امیر ترین ممالک میں شامل کر دیا۔
بین الاقوامی سطح پر شیخ حمد کے دور کو قطر کی خارجہ پالیسی میں نئے باب کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ ان کی قیادت میں قطر نے کئی تنازعات میں ثالثی کا کردار ادا کیا اور الجزیرہ نیٹ ورک کی توسیع نے قطر کی عالمی شناخت کو مضبوط کیا۔
شیخ حمد کو قطر کی جدید ریاست کا معمار کہا جاتا ہے۔ ان کے دور میں تعلیم، تحقیق، کھیل اور ثقافت کے منصوبے شروع کیے گئے، جن کی بدولت قطر عالمی توجہ کا مرکز بنا۔ قطر کو 2022 کے فیفا ورلڈ کپ کی میزبانی کا اعزاز بھی انہی کی کاوشوں کا نتیجہ تھا۔
سال 2013 میں شیخ حمد نے رضاکارانہ طور پر اقتدار اپنے صاحبزادے شیخ تمیم بن حمد آل ثانی کے حوالے کر دیا، جو عرب دنیا میں منفرد مثال سمجھی جاتی ہے۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے امیر قطر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی کو تعزیتی پیغام بھیجا، جبکہ عباس عراقچی نے بھی سابق امیر کے انتقال پر افسوس کا اظہار اپنے ایکس اکاؤنٹ پر کیا۔ عراقچی کا یہ دورہ ایسے وقت ہو رہا ہے جب قطر خطے میں اہم سفارتی کردار ادا کر رہا ہے۔


