بیجنگ (شِنہوا) چین کی ریاستی کونسل کے امور تائیوان دفتر کی ترجمان نے کہا ہے کہ آبنائے تائیوان کی موجودہ صورتحال کو نئے ’’دو ریاستی نظریے‘‘ کے تحت بیان کرنے کی کوششیں قانونی اصولوں، تاریخ اور زمینی حقائق کے منافی ہیں اور یہ ’’تائیوان کی علیحدگی‘‘ کی حمایت پر مبنی ایک گمراہ کن علیحدگی پسند بیانیہ ہے۔
ریاستی کونسل کے امور تائیوان دفتر کی ترجمان ژو فینگ لیان نے اس سوال پر ردعمل دیا جس میں تائیوان کی ڈیموکریٹک پروگریسو پارٹی کے سیاست دانوں کے ان بیانات کا حوالہ دیا گیا تھا جن میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ چین فوجی اور غیر فوجی اقدامات کے ذریعے آبنائے تائیوان کی موجودہ صورتحال کو تبدیل کر رہا ہے۔
ژو فینگ لیان نے کہا کہ ’’یہ دعوے حقائق کو مکمل طور پر مسخ کرنے اور بدنیتی پر مبنی پروپیگنڈا ہیں۔ دنیا میں صرف ایک ہی چین ہے اور تائیوان چین کا حصہ ہے، یہی آبنائے تائیوان کی حقیقی موجودہ صورتحال ہے۔‘‘
ژو فینگ لیان نے کہا کہ ڈیموکریٹک پروگریسو پارٹی کی انتظامیہ مسلسل ’’تائیوان کی علیحدگی‘‘ کے موقف پر قائم ہے، ایک چین کے اصول پر مبنی 1992 کے اتفاق رائے کو تسلیم کرنے سے انکار کرتی رہی ہے اور بیرونی قوتوں کے ساتھ مل کر ’’تائیوان کی علیحدگی‘‘ کے حصول کے لئے اشتعال انگیز اقدامات کرتی رہی ہے جس کے باعث وہ آبنائے تائیوان کی موجودہ صورتحال کو نقصان پہنچانے اور خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے کا سب سے بڑا سبب بن چکی ہے۔


